پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اقدامات پر ایک نیا بحث کا موضوع سامنے آیا ہے۔ یہ بحث پی ٹی ایم یو کے کے میڈیا کوآرڈینیٹر عادل داوڑ کی بی بی سی پشتو کے ساتھ گفتگو کے بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے مخصوص زاویوں سے پیش کیے گئے بیرونی تبصروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔
اس تناظر میں غیر ریاستی عناصر، کالعدم تنظیموں اور جانبدار بین الاقوامی این جی اوز کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی اقدامات، بارودی سرنگوں کے استعمال اور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پر پھیلائے جانے والے منفی بیانیے پر پاکستان کا مستند اور جامع موقف سامنے آ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اوٹاوا معاہدے میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ خطے کی مخصوص سکیورٹی صورتحال اور قومی دفاعی ضروریات پر مبنی ہے۔ ریاستی فورسز بارودی سرنگوں کا استعمال کنونشن آن کانونشنل ویپنز کے ترمیم شدہ پروٹوکول II کے تحت دفاعی اور منظم انداز میں کرتی ہیں، جن کی مکمل ریکارڈنگ، نشاندہی اور کارروائیوں کے بعد صفائی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ شہریوں کے لیے خطرات کم سے کم ہوں۔
تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات اور غیر قانونی بارودی مواد کا استعمال ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے کالعدم دہشت گرد گروہ کرتے ہیں۔ ریاستی دفاعی اقدامات کو ان دہشت گردوں کی تخریبی کارروائیوں سے جوڑنا اور اصل ذمہ داروں کو نظرانداز کرنا زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
سکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا کے نیا ضم شدہ قبائلی اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد بارودی سرنگوں کی صفائی، جنگی باقیات کے خاتمے اور مقامی آبادی کے لیے خطرے سے آگاہی کے پروگرام مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بے گھر شہری محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس آ سکیں۔ ان خطرناک انسانی خدمات کو نظرانداز کر کے ریاستی غفلت کا الزام لگانا حقائق کے منافی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں کی رپورٹنگ پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ادارے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ جیسے سیاسی گروہوں کے غیر مصدقہ اور یکطرفہ دعوؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ کون ٹیرا کی آزادانہ جائزہ رپورٹ، جس میں زہریلے کام کے ماحول کی نشاندہی کی گئی، اور ہاولٹ براؤن رپورٹ میں خود ایمنسٹی کے اندرونی بحرانوں اور امتیازی رویوں کو بے نقاب کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں داخلی مسائل کا شکار ادارہ پاکستان کے خودمختار قومی سلامتی فیصلوں پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں رکھتا۔
حقائق نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کالعدم پی ٹی ایم لاپتا افراد اور سکیورٹی امور کو اپنے سیاسی مقاصد اور عوامی گمراہی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ریاست کی جانب سے کیے جانے والے تمام انتظامی حراستی اقدامات اور سیکیورٹی کارروائیاں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11-B اور ایم پی او آرڈیننس کے آئینی و قانونی دائرے کے اندر امن و امان کے قیام اور سرحد پار تخریب کاری کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔