سوشل میڈیا پر پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف ایک اور منظم پراپیگنڈا مہم سامنے آئی ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع کے مطابق مفرور یوٹیوبر عادل راجہ اور بھارتی اکاؤنٹس کے درمیان گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ دونوں جانب سے ایک ہی وقت میں ملتا جلتا پاکستان مخالف مواد نشر کیا گیا ہے۔
الزامات کی یکسانیت سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے شواہد کے مطابق بھارتی صحافی شوانک مشرا اور عادل راجہ نے خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی حکام کے خلاف بیک وقت پوسٹس شیئر کیں۔ ان پوسٹس میں سیکیورٹی اداروں پر سیاسی بنیادوں پر مبینہ کارروائیوں کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔
بیانیے کا وقت اور ہم آہنگی رپورٹس کے مطابق دونوں اکاؤنٹس سے انتہائی کم وقفے میں یکساں نوعیت کے بیانات جاری کیے گئے۔ مبصرین کے مطابق یہ مواد کسی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس مہم کا مقصد خیبر پختونخوا میں ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور عوام میں بداعتمادی پھیلانا ہے۔
قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے سوشل میڈیا کے ذریعے ہائبرڈ وار فیئر میں مصروف ہے۔ عادل راجہ جیسے عناصر بیرونی دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان مربوط مہمات کا مقصد قومی اداروں کے خلاف من گھڑت الزامات لگا کر انتشار پیدا کرنا ہے۔