پاکستان اس وقت جن سنگین بحرانوں کا شکار ہے، ان کی بنیادی جڑیں سیاسی کشمکش سے زیادہ ہمارے ناکارہ اور فرسودہ انتظامی نظام میں پیوست ہیں۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ملک کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا، معاشی و سماجی ضروریات بدلیں اور چیلنجز کئی گنا بڑھ گئے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا انتظامی ڈھانچہ آج بھی دہائیوں پرانے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی ایک تاریخی پیش رفت تھی، لیکن یہ سفر ادھورا رہا۔ صوبائی دارالحکومتوں نے اختیارات کو اپنے پاس محصور کر لیا اور انہیں نچلی سطح یعنی عوام کی دہلیز تک منتقل نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال نے بڑے صوبوں کو انتظامی طور پر فلج کر دیا ہے اور دور دراز کے علاقوں میں محرومی و بے چینی کی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
موجودہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ریاست ہر شہری تک اپنی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائے۔ بڑا صوبہ یا وسیع جغرافیہ کبھی بھی خود بخود بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں بن سکتا، بلکہ اصل کامیابی اور پائیداری صرف مؤثر اور متحرک انتظامی ڈھانچے سے ہی ممکن ہے۔ اختیارات کا ایک جگہ مرکز بن جانا مسائل، بدعنوانیاں اور تاخیر پیدا کرتا ہے، جبکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور تقسیمِ کار ہی ان تمام چیلنجز کا واحد حل ہے۔
جب تک فیصلے انہی مقامات پر نہیں ہوں گے جہاں مسائل جنم لیتے ہیں، تب تک عام شہری کو نہ تو فوری انصاف مل سکتا ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کو اپنے ہی خطے میں بااختیار ادارے دیے جائیں تاکہ انہیں دور دراز کے دارالحکومتوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔
پاکستان کو اس وقت مزید کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی تنازع کی ضرورت نہیں بلکہ ایک بہترین اور جدید انتظامی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ محض زیادہ وسائل مختص کر دینا مسائل کا حل نہیں، بلکہ حقیقی حل ایک شفاف اور فعال انتظامی نظام میں مضمر ہے۔
نئی انتظامی اکائیوں کا قیام کسی علاقے کی جغرافیائی یا قومی تقسیم ہرگز نہیں، بلکہ یہ ریاست کی رسائی کو وسیع کرنے اور ہر شہری کو بااختیار بنانے کا ذریعہ ہے۔ چھوٹا اور متحرک انتظامی نظام ایک بڑے اور سست رفتار نظام سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں احتساب، شفافیت اور خدمت کا معیار بلند رہتا ہے۔
اگر پاکستان کو آئندہ دہائیوں کے سنگین بوجھ کو سنبھالنا ہے اور ایک مضبوط و مستحکم وفاق کی بنیاد رکھنی ہے، تو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات کا آغاز کرنا ہو گا۔ نئی انتظامی اکائیوں کے قیام سے نہ صرف علاقائی ترقی کے نئے مراکز قائم ہوں گے بلکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ایک مضبوط وفاق کی پہچان کمزور اور بے اختیار اکائیاں نہیں ہوتیں، بلکہ بااختیار، جوابدہ اور فعال اکائیاں ہی وفاق کو استحکام دیتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ مسئلہ کسی نقشے کی تبدیلی کا نہیں، بلکہ مؤثر حکمرانی کا ہے، اور انتظامی اصلاحات ہی متوازن ترقی کا واحد راستہ ہیں۔
دیکھیے: تیرہ واقعہ: خوارج کی مذہبی جذبات بھڑکانے کی پراپیگنڈا مہم ناکام