اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم (یو این ایم ٹی) کی رپورٹ نے بی ایل اے کے عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلقات کو ثابت کر دیا ہے، بلکہ اس پر خاموشی اختیار کرنے والے مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی کے دہرے معیار پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان اور چین اس سے قبل اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے تحت بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی کوششیں کرتے رہے ہیں، تاہم امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ان کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔
تازہ ترین عالمی دستاویز میں یہ ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ چکے ہیں کہ بی ایل اے کے جنگجو افغانستان میں القاعدہ سے تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ داعش خراسان اور بی ایل اے ایک ہی لاجسٹک نیٹ ورک کے ذریعے کارروائیاں چلا رہے ہیں۔
ان سفارتی اور دفاعی پیش رفتوں کے بعد اب واشنگٹن، لندن اور پیرس کے پاس بی ایل اے کو مقامی شورش پسند قرار دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹ شائع ہونے کے بعد پاکستان ایک بار پھر 1267 کمیٹی کے سامنے یہ معاملا عالمی سطح پر اٹھائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے بلوچستان کے لیے علیحدہ ڈویژن قائم کرنا اور بی ایل اے کا القاعدہ و داعش کی سرپرستی میں کام کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ پاکستان ایک منظم بین الاقوامی پراکسی جنگ کا نشانہ ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بی ایل اے پر پابندی سے ہچکچاہٹ اب براہِ راست دہشت گردی کی پشت پناہی کے مترادف سمجھی جا رہی ہے۔