افغانستان: بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی قوتوں اور طالبان کے درمیان مسلح تصادم کی شدید لہر سامنے آئی ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے ضلع زیبک میں طالبان گروہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے انہیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ضلع زیبک میں ہونے والی اس جھڑپ کے دوران دونوں اطراف سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ اے ایف ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اچانک اور منسوب حملوں کے نتیجے میں طالبان کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران اے ایف ایف کے جنگجوؤں نے اپنی دفاعی پوزیشنوں اور مضبوط مورچوں کو کامیابی سے برقرار رکھا۔ جنگجوؤں نے مختلف سمتوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد مراحل میں طالبان اہلکاروں کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہیں اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پسپا ہونا پڑا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے اپنے اس دعوے کی تصدیق اور میدانِ جنگ کی صورتحال کو نمایاں کرنے کے لیے جھڑپوں کے بعض اہم لمحات پر مشتمل ایک ویڈیو بھی ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کر دی ہے، جس میں فائرنگ اور پیش قدمی کی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
صوبہ بدخشان کے ضلع زیبک میں رونما ہونے والے اس حالیہ معرکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائیوں میں شدت آنے سے خطے میں مسلح مزاحمت کے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔