امارتِ اسلامیہ افغانستان کے محکمۂ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو جاری کردہ ایک حالیہ مراسلے نے علاقائی سفارتی اور سیکیورٹی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انٹیلی جنس خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان اور ایران میں مقیم ان افغان شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے جن کے خاندان افغانستان میں رہائش پذیر ہیں اور وہ موجودہ افغان انتظامیہ کے خلاف کارروائیوں یا تحریکوں میں ملوث ہیں۔
ظاہری طور پر یہ مراسلہ ایک انتظامی اور حفاظتی اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ عمل ایک ایسا کھلا تضاد اور مضحکہ خیز رویہ ہے جس پر بلا جھجک الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا مقولہ صادق آتا ہے۔ اپنے ہی ملک میں کالعدم عسکریت پسندوں کو کھلی چھوٹ دینے اور پڑوسی ممالک میں بدامنی کا سبب بننے والی افغان طالبان انتظامیہ اس خط کے ذریعے دراصل اپنی داخلی نااہلی، سیاسی بوکھلاہٹ اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

اس بات سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے جاری غیر ملکی مداخلت، خانہ جنگی، طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور سنگین معاشی بدحالی کے باعث لاکھوں افغان شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں پاکستان اور ایران نے انسانی اور اخلاقی قدروں کا پاس رکھتے ہوئے ان مظلوم افغان مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی۔ خصوصاً پاکستان نے دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کو نفاذِ قانون کے تمام مسائل اور معاشی بوجھ کے باوجود اپنے شہروں، بازاروں اور روزگار کے شعبوں میں مکمل آزادی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔ انہیں صحت، تعلیم اور تجارت کی وہ سہولیات میسر آئیں جو ان کے اپنے وطن میں ناپید تھیں۔
یہ ان محسن ریاستوں کا افغان قوم پر ایک ایسا احسانِ عظیم ہے جسے کوئی بھی منصف مزاج تاریخ نگار فراموش نہیں کر سکتا۔ اب ایسے میں افغان طالبان انتظامیہ کا یہ شوشہ چھوڑنا کہ پاکستان اور ایران ان مہاجرین کو طالبان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔ پاکستان اور ایران کی ریاستوں نے کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی مہاجرین کے کیمپوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیا ہے۔
اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو الٹا الزام تراشی کرنے والی طالبان انتظامیہ خود اس وقت عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے لیے ایک سنگین دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکستان یا ایران میں کسی افغان مہاجر کی جانب سے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کا کوئی ایک بھی مصدقہ ثبوت موجود نہیں، جبکہ اس کے برعکس افغان سرزمین کا پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس، بین الاقوامی دفاعی اداروں کے جائزہ جات اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ٹھوس شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، فتنہ الخوارج اور دیگر بلوچ شدت پسند گروہ افغانستان میں کھلے عام محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ ٹی ٹی پی کے اعلیٰ کمانڈرز نہ صرف کابل، کنڑ، ننگرہار اور خوست جیسے علاقوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں، بلکہ وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی باقاعدہ آپریشنل پلاننگ کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ اور نائٹ ویژن آلات بھی ان دہشت گردوں کو افغانستان سے ہی فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کے واضح ثبوت اور ویڈیوز پاکستان بارہا افغان حکومت اور عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے۔
افغان انٹیلی جنس کا یہ متنازع خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے اندرونی حالات خود طالبان کی گرفت سے نکل رہے ہیں۔ حال ہی میں صوبہ بدخشاں کے ضلع یافتلِ پایین میں عوامی احتجاج پر طالبان کی فائرنگ سے متعدد افراد کی ہلاکت، اور افغان نیشنل یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات کی جانب سے طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا باقاعدہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان عوام اب طالبان کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بدخشاں سے لے کر قندھار تک پھیلی ہوئی یہ طالبان مخالف لہر اور عوامی بے چینی کسی بیرونی ملک کی پیدا کردہ نہیں، بلکہ یہ خود طالبان کی حقوق العباد سے محرومی، خواتین کی تعلیم پر پابندی اور جابرانہ طرزِ حکمرانی کا قدرتی نتیجہ ہے۔
جب بھی افغانستان میں طالبان کو شدید داخلی مقاومت یا عوامی غم و غصے کا سامنا ہوتا ہے، وہ اپنی بوکھلاہٹ چھپانے کے لیے پڑوسی ممالک پر الزامات کا تیر چلا دیتے ہیں۔ ایک طرف تو افغان سرزمین سے پاکستان پر روزانہ حملے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف یہی افغان انتظامیہ مظلوم بن کر پاکستان اور ایران پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو ان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جسے عام فہم زبان میں “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کہا جاتا ہے۔
ایک غیر ذمہ دار اور فسادی عنصر کی طرح امن پسند اور محسن ریاستوں پر دوش دھرنا کسی بھی طور پر سفارتی اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ الزامات کی اس سیاست سے نہ تو ان کی داخلی ناکامیاں چھپ سکتی ہیں اور نہ ہی عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر طالبان حکومت واقعی افغانستان اور خطے میں پائیدار امن کی خواہش مند ہے، تو اسے فوری طور پر الزامات کے بجائے ٹھوس عمل کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ الزام تراشی کے خطوط لکھنے سے سچائی نہیں بدلتی؛ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اور ایران خطے کے امن کے ضامن ہیں، جبکہ افغان طالبان کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے نرسری فارم سے پاک کرنا ہوگا۔