افغانستان کے دارالحکومت کابل میں “افغان انڈیپنڈنس فرنٹ” کے نام سے ایک نئے گروپ کے منظرِ عام پر آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا اعلان کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان میں گروپ نے خود کو “قومی خودمختاری اور آزادی” کی جدوجہد سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں منظم ہو چکا ہے۔
ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی کوئی باضابطہ یا آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ارکان کابل سمیت متعدد صوبوں میں موجود ہیں اور وہ “مناسب وقت” پر کارروائیاں کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے نام سے دو گروہ مسلسل طالبان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں۔
طالبان حکام کی جانب سے اس گروپ کے دعوؤں پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں طالبان حکومت اس نوعیت کے اعلانات کو “پروپیگنڈا” یا “غیر سنجیدہ دعوے” قرار دیتی رہی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی نئے مسلح گروپ کے ابھرنے کا دعویٰ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم زمینی حقائق اور تنظیمی ڈھانچے کی تصدیق کے بغیر اس کی حقیقی قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں افغانستان کو داخلی اور خارجی دباؤ کا سامنا ہے، اور ایسے میں کسی نئے گروپ کا اعلان سیاسی و سیکیورٹی ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر ضروری ہے کہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی جائے اور صورتحال کا محتاط جائزہ لیا جائے، کیونکہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بیانات ہمیشہ زمینی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔