افغانستان کے معروف میڈیا ادارے ‘ٹولو نیوز’ پر ایک پروگرام کے دوران افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف شدید اشتعال انگیز بیانیے کا پرچار کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کی اپیل کر دی ہے۔ انہوں نے ریاستِ پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار عناصر کے لیے غیر ملکی عسکری اور سفارتی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک میں انتشار پھیلانے کی دانستہ کوشش کی ہے۔
دورانِ گفتگو فضل الرحمن اوریاخیل نے پاکستان کی تقسیم کا نقشہ پیش کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں جاری علیحدگی پسند سرگرمیوں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ انہیں جائز قرار دیا۔ ان کا یہ بیان کھلے عام تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے، جسے دفاعی ماہرین افغانستان سے انتہا پسندانہ ایجنڈے کو باہر منتقل کرنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا پر اس نوعیت کی زہریلی گفتگو کا بلا روک ٹوک نشر ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ کابل میں موجود پلیٹ فارمز کو پاکستان دشمنی کے لیے استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ فضل الرحمن اوریاخیل کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور غیر ملکی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دینا بین الاقوامی قوانین اور صحافتی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس اشتعال انگیز بیان کے بعد یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا افغان طالبان کی انتظامیہ اپنے اس وعدے پر قائم ہے کہ وہ افغان سرزمین اور وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے؟ ماہرین کے مطابق ‘ٹولو نیوز’ پر اس طرح کے بیانات اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو حاصل مبینہ آزادی، افغان طالبان کے سرکاری دعوؤں کی کھلی نفی ہے اور ان کے قول و فعل میں موجود تضاد کو واضح کرتی ہے
دیکھیے: افغانستان: طالبان کمانڈر کا اسماعیلی شہری پر تشدد اور انسانی حقوق