افغان چینل ‘طلوع نیوز’ پر نشر ہونے والے پروگرام میں افغان تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی کی جانب سے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کو اغواء کرنے کی کھلم کھلا ترغیب دی گئی ہے۔ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے براہِ راست نشر ہونے والے اس بیان نے کابل کے ان دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ 16ویں اور 37ویں رپورٹس پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں جنہیں وہاں مکمل نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔ عبدالجبار سٹانکزئی کا یہ بیان، جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اغواء کو بطور حربہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا، اسی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں دہشت گردی سے منسلک تشدد کو عوامی سطح پر ایک جائز دباؤ کے آلے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
Alert: An Afghan political analyst, Abdul Jabbar Stanakzai, called on Pakistanis and militants to kidnap Americans in Pakistan in order to secure the release of Aafia Siddiqui, in a program aired on Afghanistan's Tolo News television channel. pic.twitter.com/Nl2j5cpTh0
— Mahaz (@MahazOfficial1) February 11, 2026
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر بیٹھ کر اس طرح کی اشتعال انگیز گفتگو اور طالبان حکام کی جانب سے اس پر کسی تادیبی کارروائی کا نہ ہونا، شدت پسندوں کے لیے ان کی خاموش حمایت اور رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور القاعدہ کے حمایتی نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند بیانیے اور سرحد پار دہشت گردی کے ایجنڈے کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جب ایک ذمہ دار ہمسایہ بننے کے بجائے افغان میڈیا سے پڑوسی ممالک میں تخریب کاری اور اغوا کی کال دی جاتی ہے، تو اس سے ان عالمی خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان اب بھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور معاونت کے لیے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے، جو کہ عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت