پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی براہِ راست شمولیت کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے 260 افغان دہشت گردوں کی نام، پتے اور خاندانی پس منظر سمیت مکمل شناخت ہو چکی ہے۔
دستاویزی شواہد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں قندھار کے ضلع ژڑی کا رہائشی احسان اللہ عرف خاکسار شامل ہے، جو بنوں کے علاقے ڈومیل میں خودکش حملے میں ملوث رہا۔ ضلع وردک کے موضع دادل کا نور رحمان عرف سرحدی باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں مارا گیا۔ اسی طرح لوگر کے موضع شاہی قلعہ سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر عبید اللہ سعید بدری ضلع کرم میں ہلاک ہوا۔
شواہد میں ننگرہار کے ضلع حصارک کے موضع لہو خیل کا احمد مخلص بھی شامل ہے، جو باجوڑ اور تیراہ کے معرکے میں مارا گیا۔ پکتیا سے تعلق رکھنے والا زاہد اللہ عرف ذوالقرنین ضلع اورکزئی میں ہلاک ہوا۔ پکتیا ہی کا سید احمد ہارون غلام خان پاک-افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا، جبکہ لوگر سے تعلق رکھنے والا انس عرف استاد عبداللہ سعید بنوں میں جہنم واصل ہوا۔

حقائق کے مطابق پاکستان میں مارے جانے والے افغان دہشت گردوں کے آبائی علاقوں میں باقاعدہ جنازے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان جنازوں میں افغان طالبان رجیم کے اعلیٰ عہدیدار اور اہلکار کھلے عام شرکت کرتے ہیں۔ یہ صورتحال طالبان انتظامیہ کے دہشت گردوں سے لاتعلقی کے تمام دعوؤں کی مکمل نفی کرتی ہے۔
پاکستان کے اندر دراندازی کرنے والے فتنۃ الخوارج کے مسلح گروہوں میں 70 فیصد تک عناصر افغان نژاد ہیں۔ طالبان رجیم کی جانب سے امریکی اور نیٹو افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ ان دہشت گردوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ حملہ آوروں کے قبضے سے ایم فور رائفلیں، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور نائٹ وژن آلات برآمد ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے 6 ہزار سے 6 ہزار 500 جنگجو موجود ہیں۔ سال 2025 کے دوران پاکستان پر سرحد پار سے 600 سے زائد حملے کیے گئے۔ جاری سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک 1,327 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 2,484 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
فتنۃ الخوارج نے ننگرہار، کنڑ، خوست اور پکتیکا میں باقاعدہ تربیتی کیمپ قائم رکھے ہیں۔ ان مراکز میں افغان طالبان کے اہلکار بھی خوارج کے ساتھ عملی طور پر شامل دکھائی دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے افغانستان میں القاعدہ، ای ٹی آئی ایم اور داعش کے ٹھکانوں کی موجودگی کی تصدیق بھی کی ہے۔
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ محض زبانی انکار اب قابلِ قبول نہیں۔ عبوری افغان انتظامیہ فوری طور پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز مسمار کرے، سرحد پار دراندازی پر مکمل قدغن لگائے اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال فوری بند کرے۔