شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے ملنے والی لاشیں اور ان کی شناخت محض اخبار کی کوئی معمولی خبر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا کھلا سچ ہے جس سے اب نظریں چرانا کسی طور ممکن نہیں۔ چند دن پہلے جب سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، تو ان میں قندھار کا رہنے والا حافظ محب اللہ عرف خالد بھی شامل تھا۔
اس سے تین دن پہلے گل بہادر گروپ کے کمانڈر گوہر کا خاص آدمی عبداللہ جان بھی مارا گیا، اور اس کا تعلق بھی سرحد پار سے تھا۔ اب تک 257 سے زیادہ ایسے افغان باشندوں کی تصدیق ہو چکی ہے جو پاکستان کے اندر خون کی ہولی کھیلنے میں ملوث نکلے۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذ کا کوئی ٹکڑا نہیں، بلکہ 257 جیتے جاگتے ثبوت ہیں کہ پاکستان کے خلاف جنگ کہاں سے لڑی جا رہی ہے۔

یہ تلخ حقیقتیں عین اس وقت کھل کر سامنے آئی ہیں جب گزشتہ روز افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے روایتی اور لچھے دار بیانات داغے گئے۔ متقی صاحب نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ راگ الاپا کہ افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قندھار کا محب اللہ اور حافظ گل بہادر گروپ میں شامل افغان جنگجو آسمان سے ٹپکے تھے؟
امیر خان متقی کے ان کھوکھلے دعوؤں اور پرفریب بیانات کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے یہی ثبوت کافی ہیں۔ جب آپ کے اپنے شہری بارود باندھ کر، کلاشنکوفیں اٹھا کر پاکستانی حدود میں گھسیں اور ہمارے جوانوں و معصوم شہریوں کو نشانہ بنائیں، تو پھر پریس کانفرنسوں میں دی جانے والی صفائیاں جھوٹ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتیں۔
پاکستان اور افغانستان کا رشتہ کوئی کل پرسوں کا نہیں۔ پاکستان نے دہائیوں تک اپنے افغان بھائیوں کے لیے دل اور سرحدیں دونوں کھولے رکھے۔ چالیس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو روٹی، چھت اور تحفظ دیا، اپنوں کا پیٹ کاٹ کر ہمسایوں کو سنبھالا۔ مگر آج اسی حسنِ سلوک اور رواداری کے بدلے اسلام آباد کو کیا مل رہا ہے؟ سرحد پار سے جنازے، خودکش دھماکے اور دہشت گردی۔
کابل میں بیٹھے حکمران یا تو ان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں یا پھر جان بوجھ کر آنکھیں موندے بیٹھے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور گل بہادر گروپ جیسے فتنہ پرور عناصر کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہے۔
امیر خان متقی اور کابل کے اربابِ اختیار کو یہ حقیقت پلے باندھ لینی چاہیے کہ آگ جب بھڑکتی ہے تو سرحدیں دیکھ کر نہیں رکتی۔ جو سانپ آج پاکستان کو ڈسنے کے لیے افغان سرزمین پر پالے جا رہے ہیں، کل کو وہ خود کابل کے امن کو بھی نگل جائیں گے۔ پاکستان نے صبر، ضبط اور سفارت کاری کا ہر راستہ آزما کر دیکھ لیا ہے، لیکن جب بات اپنے شہریوں اور جوانوں کے خون کی آئے گی تو کوئی بھی غیرت مند ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی۔
زبانی جمع خرچ، جھوٹی تسلیاں اور میڈیا کے سامنے بناوٹی بیانات کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اگر کابل حکومت خطے میں امن اور دوطرفہ تعلقات میں ذرہ برابر بھی سنجیدہ ہے، تو اسے ان دہشت گردوں کے اڈے اکھاڑ پھینکنے ہوں گے اور اپنے شہریوں کی دراندازی روکنی ہوگی۔ ورنہ پاکستان اپنے دفاع میں جو بھی سخت قدم اٹھائے گا، اس کی تمام تر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کابل کی عبوری حکومت پر ہی عائد ہوگی۔ حقائق بولتے ہیں، اور شمالی وزیرستان میں مارے گئے افغان دہشت گرد کابل کے ہر جھوٹ کی کھلی گواہی دے رہے ہیں۔