طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، رہائش، خوراک اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے فوری طور پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

January 24, 2026

نئے قانون کے تحت معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم پر مختلف طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کو سب سے اعلیٰ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے کسی جرم کی صورت میں صرف نصیحت کافی سمجھی گئی ہے اور کسی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔

January 24, 2026

ریسکیو 1122 کے مطابق وادی تیراہ میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

January 24, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان دھماکے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

January 24, 2026

افغانستان کے سفیر نے دوحہ میں اقوام متحدہ کے نمائندے سے ملاقات میں بچوں کے تحفظ، بارودی سرنگوں کی صفائی اور تعلیم و صحت کی سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا

January 23, 2026

افغانستان میں غذائی بحران شدت اختیار کر گیا، ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے

January 23, 2026

خیبرپختونخوا کے پرانے افغان پناہ گزین کیمپس بند، اراضی صوبائی حکومت کے حوالے

وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔
خیبرپختونخوا کے پرانے افغان پناہ گزین کیمپس بند، اراضی صوبائی حکومت کے حوالے

حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ملک کی سرحدی سالمیت اور عوامی حفاظت اولین ترجیح ہے اور جو بھی اقدامات کیے جائیں گے وہ قومی مفاد اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

October 14, 2025

حکومتِ پاکستان نے خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے قائم متعدد افغان پناہ گزین کیمپس کو فوری طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وفاقی سطح پر جاری کردہ حکم کے مطابق ان دس کیمپس کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے اور متعلقہ اراضی و اثاثے صوبائی حکومت کو منتقل کر دیے جائیں گے تاکہ انہیں قانونی اور تعمیری استعمال میں لایا جا سکے۔

سرکاری ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق متاثرہ اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، مانسہرہ، چارسدہ اور ملاکنڈ شامل ہیں۔ صوبے بھر میں موجود افغان مہاجرین کو فوری وطن واپسی یا متعلقہ حکام کے زیرِ انتظام واضع کردہ متبادل کا پابند کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی اراضی قبضے میں لینے اور ان پر حکومتی منصوبہ جات یا عوامی استعمال کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس اقدام کا پس منظر سکیورٹی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں کہا تھا کہ افغان عبوری حکومت (طالبان) نے اپنے سامنے بعض دہشت گرد عناصر کی موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کبھی ان کے “ساتھی” رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے انتباہ کیا کہ “جو ہمارے پاکستانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے گا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے” اور کہا کہ “اب ٹَٹ فار ٹَٹ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ چھپ کر بیٹھنے والے عناصر کا پتا چلانا اب مشکل کام نہیں رہا کیونکہ جدید انٹیلی جنس اور مواصلات کے ذریعے ان کے ٹھکانے معلوم ہو جاتے ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اب اس بات کی گنجائش نہیں کہ ہمارے مقامی شہری اور فورسز شہادت کا شکار ہوں اور حکومت خاموش رہے؛ جب بھی جارحیت ہوگی، پاکستان کی طرف سے بھرپور اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ اُن کے مطابق ریاست کے پاس “تمام معلومات” موجود ہیں اور مستقبل میں اس نوعیت کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔

وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان اراضی کا انوینٹری بنائے، مفاد عامہ کے منصوبے کا خاکہ تیار کرے اور وہاں موجود افراد کے حوالے سے انسانی نقطہ نظر سے ری لوکیشن یا ری پیٹری ایشن کے جامع پروگرام نافذ کرے۔

نوٹیفکیشن کے بعد مقامی سطح پر ردِعمل مختلف رہا؛ بعض حلقوں نے سکیورٹی نقطۂ نظر سے فیصلے کا خیرمقدم کیا جب کہ انسانی حقوق کی کارکنوں اور سماجی نمائندوں نے کہا ہے کہ مہاجرین کے حقوق، تحفظ اور ری ہاؤسنگ کے مناسب انتظامات کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ کوئی بے گھر یا لاواسطہ متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب پشاور میں جاری سیاسی صورتحال کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے اور ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے معاملے پر فیصلہ محفوظ ہے اور صوبائی قیادت جلد اس پر حتمی اعلان کرے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی، انتظامی اور سیاسی امور کو ہم آہنگ انداز میں نمٹایا جائے گا۔

حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ملک کی سرحدی سالمیت اور عوامی حفاظت اولین ترجیح ہے اور جو بھی اقدامات کیے جائیں گے وہ قومی مفاد اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

دیکھیں: اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 30 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، رہائش، خوراک اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے فوری طور پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

January 24, 2026

نئے قانون کے تحت معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم پر مختلف طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کو سب سے اعلیٰ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے کسی جرم کی صورت میں صرف نصیحت کافی سمجھی گئی ہے اور کسی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔

January 24, 2026

ریسکیو 1122 کے مطابق وادی تیراہ میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

January 24, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان دھماکے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

January 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *