وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی کی بنیادی وجہ بنا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں منعقدہ قومی سکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عملی اقدامات کے ذریعے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی و خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست پُرعزم ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ انہوں نے عوام اور اداروں کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی ضرورت پر بھی گفتگو کی۔
افغان مہاجرین سے متعلق مؤقف
وزیراعظم نے افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چالیس لاکھ افغانوں کی مہمان نوازی کی۔ افغان مہاجرین نے یہاں کاروبار کیے، شادیاں کیں اور ان کے بچوں نے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی، لیکن ان کی میزبانی کی قدر نہیں کی گئی۔
انہوں نے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ میں مذکور ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور کسی دہشت گرد گروہ کو کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، مگر افغان حکام نے اس پر عمل نہیں کیا۔ لہذا آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان پرامن رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔‘
صوبائی ترقی اور دفاعی کارکردگی
وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ ملکی ترقی کا دارومدار تمام صوبوں کی ترقی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے بلوچستان کی اہم سڑکوں کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں اور سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے پر 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دیگر صوبوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 800 ارب روپے کی معاونت فراہم کی ہے۔
بھارت کے خلاف دفاعی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں گزشتہ سال بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ آج پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو رہا ہے اور ملک کی ترقی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس ورکشاپ میں سینئر سکیورٹی اہلکاران اور صوبائی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر خیبرپختونخوا میں، سلامتی کی صورت حال ایک اہم قومی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک