افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان کے درمیان خود کو غیر جانبدار ثالث ظاہر کرنے کی کوششوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان میڈیا ادارے المرصاد اور دیگر حلقوں کی جانب سے کابل حکومت کے کردار کو امن کے خواہاں کے طور پر پیش کرنے کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم حقائق بتاتے ہیں کہ افغان طالبان پاکستان سے کیے گئے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔
دفاعی ذرائع کے مطابق کابل پر قبضے سے قبل 2021 میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی، القاعدہ کمانڈروں اور حافظ گل بہادر گروپ کے مابین ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ان عسکری گروہوں کے درمیان باہمی تعاون کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اگرچہ نومبر 2021 میں طالبان حکومت نے پاکستان کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ امن مذاکرات سے انکار کرنے والے ٹی ٹی پی کے دھڑوں کے خلاف سخت عسکری کارروائی کرے گی، لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سرگرم ہے بلکہ وہاں محفوظ پناہ گاہوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کو منظم کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 15ویں اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ایک عسکری یا دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے ساتھ گہرے نظریاتی اور تنظیمی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کابل پر قبضے کے فوراً بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے افغان طالبان کے امیر سے وفاداری کا حلف لیا تھا، جس کے بعد اس گٹھ جوڑ کو مزید تقویت ملی۔ اقوامِ متحدہ کی 35ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خاندان کو ماہانہ تقریباً 43 ہزار ڈالر (30 لاکھ افغانی) کی باقاعدہ مالی امداد فراہم کر رہی ہے، جبکہ تنظیم کو لاجسٹک اور آپریشنل معاونت بھی حاصل ہے۔
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل 2022 میں جب پاکستان نے افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع سپیرہ میں عسکریت پسندوں پر فضائی کارروائی کی، تو افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب مجاہد نے حافظ گل بہادر سمیت فتح گروپ کی قیادت کو طلب کر کے حملے روکنے کا کہا۔ تاہم، گل بہادر نے انہیں میر علی معاہدے کی دستاویز دکھائی، جس میں افغان طالبان کی جانب سے عسکری گروہوں کی غیر مشروط حمایت کا ذکر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گل بہادر گروپ نے 2021ء کے بعد سے افغان صوبوں میں مقامی حکام کی مدد سے اپنے مراکز کو مزید مضبوط کیا ہے۔
علاوہ ازیں، 2022ء میں کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب نے غیر ملکی جنگجوؤں کو بین الاقوامی نگرانی سے بچانے کے لیے دور دراز علاقوں میں منتقل کیا۔ اس معاملے پر ملا عبدالغنی برادر اور سراج الدین حقانی کے مابین شدید اختلافات بھی سامنے آئے، جہاں حقانی نے اعتراف کیا کہ الظواہری کو کابل میں پناہ امیرِ طالبان ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی براہِ راست رضامندی سے دی گئی تھی۔
حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغان طالبان نے سابق افغان حکومت کے دور میں قید کیے گئے ٹی ٹی پی کے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے انہیں پاکستان کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ کابل حکومت کے اس طرزِ عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اپنے پرانے نظریاتی تعلقات اور عسکری روابط کی اہمیت پاکستان اور عالمی برادری کو دی گئی سیکیورٹی یقین دہانیوں سے کہیں زیادہ ہے۔