طالبان حکومت کی جانب سے حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارم کے ذریعے خواتین کی ملازمت اور بااختیار ہونے کے حوالے سے مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔ ہیرات کے صنعتی زون میں قائم امید افغان فوڈ پروڈکٹس فیکٹری کو خاص طور پر نمایاں کرکے دکھایا جا رہا ہے جہاں تمام خواتین ہیں اور اسے ملکی تعمیر نو اور اقتصادی استحکام کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب زمینی حقائق اور بین الاقوامی تحقیقات اس بیانیے کے برعکس منظر پیش کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کے نافذ کردہ قوانین اور بلا وجہ کی پابندیاں خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شمولیت کو محدود کرتی ہیں۔ چند منتخب اداروں کی نمائش ملک کی مجموعی اقتصادی تنزلی اور ساختی جبر کو چھپانے کا ذریعہ ہے۔
طالبان کی طرف سے پیش کردہ یہ منظم نمائشیں درحقیقت انکی منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو ملک میں خواتین کے حقیقی مسائل اور ان پر عائد پابندیوں کو پردے میں رکھتی ہیں۔ خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں پر پابندی اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ ملک میں اقتصادی بحالی اور خواتین کی شمولیت ممکن ہو رہی ہے۔
Afghan soil is today witnessing a new era, where a wave of reconstruction and economic stability can be seen rising from the Herat Industrial Zone.
— برهان الدین | Burhan uddin (@burhan_uddin_0) December 28, 2025
The Omid Afghan Food Products factory is a fine example of this positive change.
All the workers in this factory are women. pic.twitter.com/rKa3QGCRYw
افغانستان میں خواتین کو وزارتِ امورِ خواتین کے خاتمے کے بعد سیاسی فیصلہ سازی کے تمام مراکز سے عملی طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ نئی قائم کردہ وزارتِ فروغِ فلاح و گناہ خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرنے اور حقوق کی بحالی کے بجائے ان پر مزید پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ چند خواتین کا کسی فیکٹری میں ملازمت کرنا طالبان کے نافذ کردہ وسیع پیمانے کے انتظامی جبر کو کم نہیں کرتا۔ خواتین کی نقل و حرکت، لباس اور عوامی زندگی پر مسلط کیے گئے احکامات کسی بھی بااختیاری کے دعوے کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں۔
فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین بنیادی طور پر اپنے خاندانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے مجبوراً یہ ملازمتیں کر رہی ہیں، نہ کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے۔ طالبان کی پالیسیوں کے تحت خواتین کی صحت، غیر سرکاری تنظیموں اور پیشہ ورانہ شعبوں میں شرکت انتہائی محدود ہے۔
طالبان حکومت نے ملک بھر میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کر کے ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ خواتین کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں، وزارتی عہدوں، بلدیاتی اداروں اور عدالتی نظام سے محروم کر دیا گیا ہے۔ مرد سرپرست کی شرط نے خواتین کی آزادی اور روزگار کے مواقع کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان دور میں خواتین کارکنوں، صحافیوں اور حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف گرفتاریوں، تشدد اور جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کم عمری کی شادیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ متاثرہ خواتین کے لیے قانونی تحفظ کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ ملکی آبادی کے نصف حصے کو پالیسی سازی سے خارج کرنے سے تعمیر نو کے تمام دعوے بے معنی ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان کی غیر واضح پالیسیوں اور مسلط کردہ پابندیوں نے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ اقتصادی بیانیے خواتین کی تعلیم پر پابندی کو نظرانداز کرتے ہیں، جو کسی بھی ملک کے ماہر افرادی قوت کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیرات کی ایک فیکٹری میں خواتین کی محدود ملازمت طالبان کے دعوؤں کو حقیقی اقتصادی بااختیاری یا ملک گیر ترقی کے طور پر پیش نہیں کر سکتی۔ یہ خواتین اپنے خاندانوں کی معاشی ضروریات کے دباؤ میں یہ کام کر رہی ہیں، نہ کہ حکومتی تعاون یا حقیقی شمولیت کی وجہ سے۔
دیکھیں: امارتِ اسلامیہ افغانستان کی ابو عبیدہ اور دیگر کمانڈروں کی شہادت پر اظہارِ تعزیت