افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت محض چند روایتی علاقوں تک محدود رہنے کے بجائے پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں اے یو ایف، اے ایف ایف، این اے ایف اور این آر ایف نے منظم عسکری حکمت عملی کے تحت طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں، انٹیلی جنس نیٹ ورک، چوکیوں اور کلیدی کمانڈرز کو ہدف بنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا جغرافیائی دائرہ کار طالبان کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ ملک میں مکمل سکیورٹی استحکام قائم ہو چکا ہے۔
اہم مراکز پر حملے
حالیہ کارروائیاں بادغیس، ننگرہار، قندھار اور دارالحکومت کابل تک پھیل چکی ہیں۔ بادغیس کے ضلع جوند میں گھات لگا کر کی گئی کارروائی اور ننگرہار کے نواح میں انٹیلی جنس اہلکار کی ہلاکت نے طالبان کے حفاظتی نظام کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کابل کے علاقے سرائے شمالی میں ایک چوکی پر حملے نے دارالحکومت کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے زونز میں بھی سکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
قندھار میں کارروائیاں
مزاحمتی سرگرمیوں کا قندھار تک پہنچنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ قندھار طالبان کا تاریخی مرکز، نظریاتی گڑھ اور اصل اقتدار کا منبع ہے۔ وہاں باغِ پل میں اہلکار کو نشانہ بنانا اور صوبائی سکیورٹی کمانڈر عبدالاحد عرف مولانا طالب کے گیسٹ ہاؤس پر جان لیوا حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مزاحمتی قوتیں اب طالبان کے سب سے مضبوط سمجھے جانے والے قلعوں کے اندر اثرورسوخ پیدا کر چکی ہیں، جہاں ان کے اہم کمانڈرز بھی محفوظ نہیں رہے۔
عسکری صف بندی
دوسری جانب این آر ایف نے اپنی تنظیمی اور عسکری ساخت کو متحرک کرتے ہوئے صالح محمد ریگستانی کو ملٹری ہیڈکوارٹر کا کمانڈر جنرل آف آپریشنز مقرر کیا ہے۔ قیادت کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی یہ واضح اعلان کیا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف ملک گیر مسلح جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے طالبان رجیم پر غیر قانونی گرفتاریوں، انٹیلی جنس عقوبت خانوں میں تشدد، وسائل کے استحصال اور عالمی سطح پر متنازع عسکری گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
طالبان کو نئے چیلنجز
مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں متحرک مزاحمتی محاذوں کے اشتراکِ عمل نے طالبان کی مسلح گرفت کو ایک پیچیدہ بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچے پر مسلسل حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر قائم کیا گیا امن دیرپا ثابت نہیں ہو رہا۔ یہ صورتِ حال طالبان کی انتظامی عملداری، دفاعی حکمتِ عملی اور داخلی استحکام کے دعووں کے سامنے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔