لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

افغانستان میں چینی شہریوں کے قتل کے بعد خطے کی سلامتی پر تشویش اور پاکستان کے حفاظتی اقدامات

تخار میں پانچ چینی شہریوں کے قتل کے بعد غیر ملکی شہریوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی، باقی کارکن فوری طور پر تالقان منتقل کر دیے گئے۔ تنازعہ سونے کی کان پر قندھار کے طالبان اور مقامی لوگوں کے درمیان ہوا، جس میں مائننگ سائٹ کو بھی نقصان پہنچا
تخار میں پانچ چینی شہریوں کے قتل کے بعد غیر ملکی شہریوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی، باقی کارکن فوری طور پر تالقان منتقل کر دیے گئے۔ تنازعہ سونے کی کان پر قندھار کے طالبان اور مقامی لوگوں کے درمیان ہوا، جس میں مائننگ سائٹ کو بھی نقصان پہنچا

پاکستان نے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے خصوصی سکیورٹی ڈویژن قائم کی ہے، جو سی پیک سمیت تمام منصوبوں کی حفاظت پر مامور ہے جبکہ افغانستان میں طالبان صوبوں اور مقامی آبادیوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں

January 8, 2026

افغانستان کے صوبہ تخار میں پانچ چینی شہریوں کے قتل کے بعد خطے میں غیر ملکی شہریوں کی سلامتی کے انتظامات پر سوالیہ نشان اُٹھنا شروع شروع ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق باقی بچ جانے والے چینی کارکنوں کو فوری طور پر تخار سے قریبی صوبے تالقان منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیل
گزشتہ چند دنوں کے دوران تخار کے ایک سونے کی کان والے علاقے میں مقامی افراد اور قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں کے درمیان تنازعہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق قندھاری طالبان گروہ سے منسلک عناصر نے سونے کی کان پر کام کرنے والے پانچ چینی شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ حملے میں مائننگ سائٹ کی مشینری اور پروسیسنگ یونٹ کو بھی آگ لگا دی گئی جس سے کروڑوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔

تنازعے کی وجوہات
ذرائع کے مطابق یہ تنازعہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے، جب قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں نے مقامی لوگوں سے سونے کی کانیں زبردستی چھین کر اپنے حامیوں کے حوالے کر دیں۔ بعد ازاں انہی کانوں پر چینی ماہرین سے کام شروع کروایا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ انہیں کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔

افغانستان میں عدمِ استحکام
اس واقعے نے افغانستان میں موجودہ عدم استحکام کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان حکومت کا دارالحکومت کابل سے ملک کے دور دراز صوبوں پر مؤثر کنٹرول نہیں ہے۔ صوبائی کمانڈر اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں، جس سے افغانستان میں یکساں پالیسی کا نفاذ مشکل ہو رہا ہے۔

قدرتی وسائل پر ناجائز کنٹرول اور مقامی لوگوں کو بے دخل کرنے کی پالیسی نے شدید تنازعات کو جنم دیا ہے۔ طالبان اس مقامی غصے کو منظم طریقے سے حل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ایسے واقعات بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے افغانستان کو انتہائی خطرناک مقام ثابت کرتے ہیں، جس سے طالبان کی معیشت کو بحال کرنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔

پاکستان کے حفاظتی اقدامات
افغانستان میں ہونے والے اس المناک واقعے کے برعکس پاکستان نے گزشتہ کچھ سالوں میں اپنے ہاں کام کرنے والے ہزاروں چینی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور عملی حکمت عملی اپنائی ہے۔

پاکستان نے خصوصی سکیورٹی ڈویژن کے نام سے ایک مخصوص فورس تشکیل دی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری سمیت تمام منصوبوں اور چینی شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اس فورس میں تربیت یافتہ اہلکار شامل ہیں جو صرف اس مخصوص ذمہ داری پر مامور ہیں۔

چینی قیادت نے بارہا پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ پاکستان چینی شہریوں کو محض ایک کلائنٹ نہیں،بلکہ اپنے مستقبل کے معاشی شراکت دار اور قریبی دوست سمجھتے ہوئے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اور اسی سوچ اور رویے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

پاکستان نے علاقائی اور مقامی تنازعات میں ملوث گروہوں کے خلاف اپنی سییورٹی فورسز کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے، چینی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو کافی حد تک روکا ہے۔ اس کے برعکس افغانستان میں طالبان حکومت اپنے ہی صوبوں کے درمیان اختلافات اور مقامی آبادی کے غصے کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

دیکھیں: بھارتی وفد نے خالدہ ضیاءکا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تاکہ اس کو ایشو بنایا جاسکے؛ ایاز صادق کا انکشاف

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *