افغانستان ہیومن رائٹس سینٹر (اے ایچ آر سی) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے اور طالبان کے زیرِ انتظام بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں خواتین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید دباؤ، تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ خواتین کے خلاف سخت پابندیوں میں مزید اضافے نے انہیں مستقل خوف کی فضا میں دھکیل دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین کارکنوں کو حراست میں لے کر بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ صحافیوں کی گرفتاریوں اور حراستی مراکز میں ان پر تشدد کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تعلیمی نظام کی تباہی
عالمی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی 2030 تک برقرار رہی تو تقریباً 40 لاکھ لڑکیاں تعلیم کے حق سے مستقل محروم ہو جائیں گی۔ رپورٹ میں طالبان کے خفیہ اداروں، بالخصوص ‘ڈائریکٹوریٹ 40’ کو تشدد کے مراکز قرار دیا گیا ہے، جہاں قیدیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
عدالتی نظام اور معاشی المیہ
اے ایچ آر سی کے مطابق افغانستان میں عدالتی آزادی ختم ہو چکی ہے اور فیصلے سخت تشریحات پر مبنی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ خواتین کو عدالتی نظام سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران سینکڑوں افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے اور سزائے موت دی گئی۔ دوسری جانب ملک میں معاشی بحران اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 44 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں اور لاکھوں بچے بھوک و غذائی قلت کا شکار ہیں۔
دیکھیے: خطے کی صورتحال پر پاکستان سعودی رابطہ، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر اتفاق