افغان حکومت نے قومی سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر ایک نیا اور سخت حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت فوجی تنصیبات، حفاظتی مراکز اور حساس عسکری سرگرمیوں کی کسی بھی قسم کی تصاویر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق اب کسی بھی شہری یا غیر ملکی کے لیے فوجی چھاؤنیوں، سکیورٹی چوکیوں، انٹیلیجنس دفاتر اور دیگر حساس مقامات کی تصاویر بنانا یا ویڈیوز ریکارڈ کرنا سنگین جرم تصور ہوگا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ممنوعہ مقامات کی بصری تفصیلات جمع کرنا یا سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور آلات کی نقل و حرکت کو ریکارڈ کرنا ملک کے دفاعی مفادات کے منافی ہے۔
#Afghan authorities warned people that anyone who make videos, take pictures & collect information about military installations, security centers and activities of the military and share information on Facebook and X would be considered a crime against national security (more)
— Tahir Khan (@taahir_khan) March 16, 2026
حکومتی اعلامیے میں خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فیس بک، ایکس یا دیگر ذرائع پر ایسی کسی بھی معلومات یا بصری مواد کو شیئر کرنا جو عسکری تنصیبات کو سامنے لائے، براہِ راست قومی سلامتی کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا۔
طالبان انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دشمن عناصر اور مسلح گروہ ان تصاویر اور ویڈیوز کا سہارا لے کر حساس مقامات کے نقشوں، داخلی و خارجی راستوں اور اہلکاروں کی تعداد کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں انہیں مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے معلومات کے اس قسم کے غیر ضروری رساؤ کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب شہریوں اور میڈیا نمائندوں کے لیے سکیورٹی سے متعلقہ امور کی خبر یا عوامی مقامات پر کیمرے کا استعمال انتہائی پرخطر ہو جائے گا، کیونکہ معمولی سی غلط فہمی بھی انہیں سنگین قانونی الزامات کا شکار بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے علمبرداروں کی جانب سے اسے معلومات تک رسائی پر مزید قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دیکھیے: کابل کے حساس علاقے میں ٹی ٹی پی قیادت کی پناہ گاہیں، عالمی برادری کے شدید تحفظات