مقبوضہ کشمیر کے مغل خاندان کے دو بھائیوں کی 26 سال کے وقفے سے ہلاکتیں؛ بھارتی فوج کے ہاتھوں راشد مغل کی جعلی مقابلے میں شہادت نے کشمیریوں کے زخم تازہ کر دیے۔

April 29, 2026

افغانستان میں طالبان کا تاجک برادری پر وحشیانہ تشدد؛ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور منظم نسلی جبر کے واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

April 29, 2026

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔

April 29, 2026

افغانستان میں مبلغین کے لیے نئے قانون کا نفاذ؛ فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور غیر حنفی مبلغین پر پابندی نے مذہبی تنوع اور اعتدال پسندی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔

April 29, 2026

متحدہ عرب امارات نے حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اختلافات کے باعث فرانس کے ساتھ 5 بلین یورو کے ‘سپر رافیل’ منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی؛ 80 طیاروں کی خریداری کا پرانا معاہدہ برقرار رہے گا۔

April 29, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور اسلاموفوبیا پر اظہارِ تشویش؛ مقبوضہ علاقوں میں سچائی دبانے کے لیے استعمال ہونے والی غلط معلومات کی شدید مذمت۔

April 29, 2026

نیا قانونِ تبلیغ: افغانستان میں مذہبی نظم و ضبط یا فکری آزادیوں پر قدغن؟ اہلِ علم کے شدید تحفظات

افغانستان میں مبلغین کے لیے نئے قانون کا نفاذ؛ فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور غیر حنفی مبلغین پر پابندی نے مذہبی تنوع اور اعتدال پسندی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔
افغانستان میں مبلغین کے لیے نئے قانون کا نفاذ؛ فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور غیر حنفی مبلغین پر پابندی نے مذہبی تنوع اور اعتدال پسندی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔

افغانستان میں مبلغین کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور اطاعتِ امیر کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام پر علمی حلقوں نے مذہبی تنوع اور فکری آزادیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

April 29, 2026

امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک بھر میں دعوت و تبلیغ کے نظام کو مکمل حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے ایک نیا جامع قانون نافذ کر دیا ہے۔ سترہ دفعات پر مشتمل یہ قانون مبلغین کے لیے اخلاقی اور علمی معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود مذہبی تنوع اور فقہی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے

اس نئے قانون کے تحت افغانستان میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ صرف وہی شخص انجام دے سکے گا جو “مذہبِ حنفی” کا پیروکار ہو۔ قانون کی دفعہ چھ اور چودہ واضح طور پر غیر حنفی افراد کو تبلیغی عمل سے روکتی ہیں، جو کہ افغانستان میں آباد دیگر مسالک و مکاتب فکر کے لیے ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے۔

مخصوص نصاب کی پابندی

قانون میں مبلغین کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی گفتگو کو وزارت کے تیار کردہ مخصوص نصاب تک محدود رکھیں۔ اس کے علاوہ مبلغین کو کسی بھی قسم کے اختلافی یا فروعی مسائل کو چھیڑنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی بتایا گیا ہے لیکن علمی حلقے اسے علمی جمود کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

علمی و مذہبی حلقوں نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا حقیقی راستہ ہمیشہ سے اعتدال کا رہا ہے، جس میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔ ماہرین کے مطابق جہاں دیگر مسالک کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہوں، وہاں صرف ایک فقہ کا جبری نفاذ بین الاقوامی مذہبی آزادیوں اور اسلامی رواداری کے اصولوں سے متصادم ہے۔

علمی رد

اس قانون پر ہونے والے علمی ردِ عمل میں تین نکات نمایاں ہیں۔ اول: غیر حنفی مبلغین پر پابندی کو “مذہبی جبر” کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ دوم: صرف سرکاری نصاب کی پابندی سے فقہی ارتقاء رکنے کا خطرہ ہے۔ سوم: ‘اطاعتِ امیر’ پر ضرورت سے زیادہ زور دینے سے مبلغ کا آزاد مصلح کے بجائے ایک سرکاری اہلکار کا تاثر ابھرتا ہے۔

انتظامی نگرانی کا نظام

نئے ضابطے کے تحت وزارت کا ڈائریکٹوریٹ پالیسی سازی اور نگرانی کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ صوبائی سطح پر ‘امارات’ مبلغین کی کارکردگی کا جائزہ لیں گی۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی تمام سابقہ قوانین منسوخ کر دیے گئے ہیں اور تمام ریاستی حکام و مجاہدین کو مبلغین کے ساتھ مکمل تعاون کا حکم دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ کشمیر کے مغل خاندان کے دو بھائیوں کی 26 سال کے وقفے سے ہلاکتیں؛ بھارتی فوج کے ہاتھوں راشد مغل کی جعلی مقابلے میں شہادت نے کشمیریوں کے زخم تازہ کر دیے۔

April 29, 2026

افغانستان میں طالبان کا تاجک برادری پر وحشیانہ تشدد؛ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور منظم نسلی جبر کے واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

April 29, 2026

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔

April 29, 2026

متحدہ عرب امارات نے حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اختلافات کے باعث فرانس کے ساتھ 5 بلین یورو کے ‘سپر رافیل’ منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی؛ 80 طیاروں کی خریداری کا پرانا معاہدہ برقرار رہے گا۔

April 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *