افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد 2021 میں شروع ہونے والا تنازع ختم نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ اس نے ایک نئی اور شدید عسکری شکل اختیار کر لی ہے۔ اگست 2021 کے سقوطِ کابل کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب ایک کثیرالجہتی مزاحمتی عمل میں تبدیل ہو چکی ہے، جو پنجشیر اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں پھیل چکا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار اور پانچ سالہ پیش رفت پر مبنی زمانی ترتیب کے مطابق، 2021 سے 2026 کے عرصے میں افغانستان کا عملی اور عسکری منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔
اگست 2021 میں کابل کے گرنے کے بعد مزاحمت کا آغاز بنیادی طور پر وادیِ پنجشیر اور صوبہ پروان سے ہوا تھا، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ یہ مسلح کارروائیاں شمالی اور مشرقی افغانستان کے دیگر علاقوں خصوصاً بدخشاں، تخار اور بغلان تک پھیل چکی ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں کے دوران طالبان مخالف گروہوں نے گوریلا جنگی حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں متعدد صوبوں میں جھڑپیں اور گشت کرنے والے دستوں پر حملے مسلسل جاری ہیں۔ بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی سلسلوں کو مزاحمتی فورسز نے اپنی اہم پناہ گاہوں اور عسکری مراکز میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں سے طالبان فورسز کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2021 سے 2026 تک کا دورانیہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں تنازع ختم ہونے کے بجائے مختلف علاقوں میں تقسیم ہو کر مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ متعدد اضلاع اور سرحدی علاقوں میں جاری یہ مزاحمتی عمل خطے کی سیاسی و امن و امان کی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔