حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 10, 2026

حوثیوں کے ساحلی شہر موخا پر قبضے سے باب المندب خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

September 10, 2026

سہارنپور میں فجر سے پہلے مسجد گرا دی گئی، ملبے سے 1909 کی اینٹ اور صدی پرانا کنواں نکلا۔ بابری سے نوح تک، مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا مکمل تجزیہ۔

September 10, 2026

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

September 10, 2026

گلزادی بلوچ کیس میں قانونی کارروائی کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم سامنے آئی ہے۔ اس لیے غیر مصدقہ دعوؤں کے ذریعے عدالتی نظام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

September 10, 2026

پاک یو اے ای اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اس لیے دونوں برادر ممالک نے دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

September 10, 2026

سقوطِ کابل کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں مزاحمت جاری

افغانستان میں سقوطِ کابل کے بعد 2021 سے 2026 تک کے پانچ برسوں میں عسکری منظرنامہ بدل چکا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مسلح مزاحمت تاحال جاری ہے۔
افغانستان: سقوطِ کابل کے 5 سال بعد بھی پنجشیر اور بدخشاں میں مزاحمت جاری

افغانستان میں 2021 کا تنازع ختم نہ ہو سکا۔ کابل کے سقوط سے شروع ہونے والی صورت حال پنجشیر اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں کثیرالجہتی مزاحمت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

August 2, 2026

افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد 2021 میں شروع ہونے والا تنازع ختم نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ اس نے ایک نئی اور شدید عسکری شکل اختیار کر لی ہے۔ اگست 2021 کے سقوطِ کابل کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب ایک کثیرالجہتی مزاحمتی عمل میں تبدیل ہو چکی ہے، جو پنجشیر اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں پھیل چکا ہے۔

حالیہ اعداد و شمار اور پانچ سالہ پیش رفت پر مبنی زمانی ترتیب کے مطابق، 2021 سے 2026 کے عرصے میں افغانستان کا عملی اور عسکری منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔

اگست 2021 میں کابل کے گرنے کے بعد مزاحمت کا آغاز بنیادی طور پر وادیِ پنجشیر اور صوبہ پروان سے ہوا تھا، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ یہ مسلح کارروائیاں شمالی اور مشرقی افغانستان کے دیگر علاقوں خصوصاً بدخشاں، تخار اور بغلان تک پھیل چکی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں کے دوران طالبان مخالف گروہوں نے گوریلا جنگی حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں متعدد صوبوں میں جھڑپیں اور گشت کرنے والے دستوں پر حملے مسلسل جاری ہیں۔ بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی سلسلوں کو مزاحمتی فورسز نے اپنی اہم پناہ گاہوں اور عسکری مراکز میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں سے طالبان فورسز کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 2021 سے 2026 تک کا دورانیہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں تنازع ختم ہونے کے بجائے مختلف علاقوں میں تقسیم ہو کر مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ متعدد اضلاع اور سرحدی علاقوں میں جاری یہ مزاحمتی عمل خطے کی سیاسی و امن و امان کی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 10, 2026

حوثیوں کے ساحلی شہر موخا پر قبضے سے باب المندب خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

September 10, 2026

سہارنپور میں فجر سے پہلے مسجد گرا دی گئی، ملبے سے 1909 کی اینٹ اور صدی پرانا کنواں نکلا۔ بابری سے نوح تک، مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا مکمل تجزیہ۔

September 10, 2026

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

September 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *