لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

سقوطِ کابل کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں مزاحمت جاری

افغانستان میں سقوطِ کابل کے بعد 2021 سے 2026 تک کے پانچ برسوں میں عسکری منظرنامہ بدل چکا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مسلح مزاحمت تاحال جاری ہے۔
افغانستان: سقوطِ کابل کے 5 سال بعد بھی پنجشیر اور بدخشاں میں مزاحمت جاری

افغانستان میں 2021 کا تنازع ختم نہ ہو سکا۔ کابل کے سقوط سے شروع ہونے والی صورت حال پنجشیر اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں کثیرالجہتی مزاحمت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

August 2, 2026

افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد 2021 میں شروع ہونے والا تنازع ختم نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ اس نے ایک نئی اور شدید عسکری شکل اختیار کر لی ہے۔ اگست 2021 کے سقوطِ کابل کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب ایک کثیرالجہتی مزاحمتی عمل میں تبدیل ہو چکی ہے، جو پنجشیر اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں پھیل چکا ہے۔

حالیہ اعداد و شمار اور پانچ سالہ پیش رفت پر مبنی زمانی ترتیب کے مطابق، 2021 سے 2026 کے عرصے میں افغانستان کا عملی اور عسکری منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔

اگست 2021 میں کابل کے گرنے کے بعد مزاحمت کا آغاز بنیادی طور پر وادیِ پنجشیر اور صوبہ پروان سے ہوا تھا، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ یہ مسلح کارروائیاں شمالی اور مشرقی افغانستان کے دیگر علاقوں خصوصاً بدخشاں، تخار اور بغلان تک پھیل چکی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں کے دوران طالبان مخالف گروہوں نے گوریلا جنگی حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں متعدد صوبوں میں جھڑپیں اور گشت کرنے والے دستوں پر حملے مسلسل جاری ہیں۔ بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی سلسلوں کو مزاحمتی فورسز نے اپنی اہم پناہ گاہوں اور عسکری مراکز میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں سے طالبان فورسز کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 2021 سے 2026 تک کا دورانیہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں تنازع ختم ہونے کے بجائے مختلف علاقوں میں تقسیم ہو کر مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ متعدد اضلاع اور سرحدی علاقوں میں جاری یہ مزاحمتی عمل خطے کی سیاسی و امن و امان کی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *