افغان طالبان نے امن اور مستحکم ریاستی رٹ کے جو دعوے تواتر کے ساتھ کیے گئے تھے، حالیہ عسکری پیش رفت ان پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران نہ صرف مسلح مزاحمتی تنظیموں، بالخصوص نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کی کارروائیوں میں وسعت آئی ہے، بلکہ سکیورٹی حکام اور حساس انٹیلیجنس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ کابل انتظامیہ کو درپیش چیلنجز اب کسی ایک خطے یا ایک نوعیت کے خطرے تک محدود نہیں رہے۔
شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان انٹیلیجنس اہلکار صفی اللہ متوکل کی گاڑی کو موٹر سائیکل بم سے نشانہ بنانے کا واقعہ خطے میں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ اس واقعے کی خاص بات یہ ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری جہاں ایک طرف شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے قبول کی، وہیں دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی اس کارروائی کا دعویٰ کیا۔ دونوں متضاد نظریات کے حامل گروہوں کے متوازی دعوے ایک طرف زمینی حقائق کی تصدیق کے پیچیدہ مسائل کو ظاہر کرتے ہیں، تو دوسری جانب یہ حقیقت بھی عیاں کرتے ہیں کہ کابل انتظامیہ کو اس وقت بیک وقت مختلف سمتوں سے سخت ترین عسکری و انٹیلیجنس دباؤ کا سامنا ہے۔
مزید برآں، بلخ کے صوبائی دارالحکومت مزار شریف میں طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (جی ڈی آئی) کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر راکٹ حملہ اور نائب قاری ناصر احمد سمیت اہلکاروں کی ہلاکت نے سکیورٹی شگاف کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ انٹیلیجنس نیٹ ورک کسی بھی انتظامی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسی کے اعصابی مراکز پر براہِ راست حملے مزاحمتی گروہوں کی تزویراتی رسائی اور خفیہ معلومات کے حصول کی صلاحیت کو واضح کرتے ہیں۔ ماضی میں عسکری مزاحمت کو صرف پنجشیر یا اندراب کی گھاٹیوں تک محدود سمجھا جاتا تھا، تاہم زابل میں کمانڈروں کی ہلاکت کے دعوے اور دارالحکومت کابل سمیت قندھار کے حساس زونز میں سکیورٹی واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ لہر اب روایتی گڑھوں سے نکل کر وسطی و جنوبی صوبوں تک دستک دے رہی ہے۔
تزویراتی طور پر بدخشاں کی جغرافیائی اہمیت اور بین الاقوامی سرحدوں سے اس کا متصل ہونا اس پورے خطے کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی حساس بناتا ہے۔ ایسے اسٹریٹجک علاقوں کے شہری مراکز میں سرکاری و خفیہ اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنا نہ صرف عوامی تحفظ پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ طالبان کے مرکزی دفاعی دعووں کی قلعی بھی کھولتا ہے۔ محض بیانات کے ذریعے ایسے واقعات کی نفی کرنا یا انہیں معمولی قرار دینا زمینی حقائق کے یکسر منافی ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کابل کی قیادت سے محض عسکری طاقت کے استعمال کے بجائے حقیقت پسندانہ، ہمہ گیر اور دانشمندانہ پالیسی کا تقاضا کرتی ہے۔ جب تک تمام سیاسی، نسلی اور سماجی طبقات کو فیصلہ سازی اور حکمرانی کے عمل میں حقیقی نمائندگی نہیں دی جائے گی، اس وقت تک صرف طاقت کے بل بوتے پر پائیدار استحکام کا حصول ایک سراب ہی رہے گا۔ داخلی عدم استحکام کا یہ پھیلاؤ اگر نہ روکا گیا تو نہ صرف خطے کی مجموعی سلامتی اور معاشی تعاون کے منصوبوں کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ افغانستان کو ایک بار پھر طویل اور کثیر الجہتی انتشار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔