"> طالبان کی حکمرانی پر سوالات، رپورٹ میں اہم دعوے
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں منصفانہ حکومت نہیں، طالبان کا جبری قبضہ ہے: رپورٹ

رپورٹ میں طالبان کے اقتدار میں نسلی عدم توازن، سابق حکام کے خلاف کارروائیوں اور قندھار میں اختیارات کے ارتکاز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
طالبان کی حکمرانی پر سوالات، رپورٹ میں اہم دعوے

رپورٹ میں طالبان کی حکمرانی، نسلی نمائندگی، سابق حکام کے خلاف کارروائیوں اور قندھار میں اختیارات کے ارتکاز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

August 31, 2026

افغانستان: طالبان کی حکمرانی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں اقتدار، نسلی نمائندگی اور سابق حکام کے خلاف کارروائیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کا نظام حکومت سے زیادہ ایک محدود سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک طالبان کی تقریباً 1,185 اہم قیادتی نشستوں میں 90 فیصد عہدے پشتونوں کے پاس تھے، جبکہ تاجک 5.3 فیصد، ازبک 2.5 فیصد اور ہزارہ صرف 0.6 فیصد تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کی متنوع آبادی میں سیاسی نمائندگی کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔

رپورٹ میں طالبان کابینہ کی ساخت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق 49 اعلیٰ عہدوں میں صرف 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور ایک نورستانی شامل ہیں، جبکہ کوئی ہزارہ یا خاتون اعلیٰ عہدے پر موجود نہیں۔ اہم وزارتوں میں بھی پشتون عہدیداروں کی اکثریت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سابق افغان حکام اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کو بھی رپورٹ میں اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2023 کے وسط تک سابق حکام اور سکیورٹی اہلکاروں کے 218 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2025 میں سابق افغان سکیورٹی فورسز کے مزید 27 اہلکاروں کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں افغانستان کے قدرتی وسائل اور کان کنی کے شعبے میں شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے مطابق افغانستان کے معدنی ذخائر کی مالیت تقریباً ایک کھرب ڈالر ہے، جبکہ 2021 کے بعد کان کنی کا شعبہ مرکزی کنٹرول میں چلا گیا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال پر شفافیت کے خدشات موجود ہیں۔

رپورٹ میں طالبان کی فیصلہ سازی کے مرکز قندھار میں موجود رہبری شوریٰ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شوریٰ میں 20 سے 25 ارکان شامل ہیں، جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے، جبکہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ زیادہ تر احکامات کے ذریعے نظام چلا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ تمام عوامل طالبان کے حکمرانی کے موجودہ ڈھانچے پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اقتدار کا ارتکاز، محدود سیاسی نمائندگی اور سابق نظام سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں افغانستان میں طالبان کے طرز حکمرانی کی اہم خصوصیات بن چکی ہیں۔

دیکھیے: قندھار میں این آئی ایف کی بڑی کارروائی، طالبان کے نائب انٹیلی جنس چیف ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *