اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔

March 4, 2026

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

افغانستان میں جسمانی سزاؤں کے بڑھتے واقعات پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی شدید مذمت

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔
افغانستان میں جسمانی سزاؤں کے بڑھتے واقعات پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی شدید مذمت

اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اندرونِ ملک خوف پر مبنی حکمرانی کے ساتھ ساتھ شدت پسند نیٹ ورکس کے لیے سازگار ماحول خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

March 4, 2026

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے جسمانی سزاؤں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ماہرین نے کہا کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جس استحکام کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ دراصل بنیادی حقوق کی منظم نفی اور خوف کے ذریعے معاشرے کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔

خواتین کی صورتحال پر تشویش

ماہرین نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً 80 فیصد خواتین کو تعلیم، ملازمت اور فنی تربیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق احکامات براہِ راست قندھار سے جاری کیے جا رہے ہیں، جہاں طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ مقیم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان احکامات کے نتیجے میں خواتین کو عوامی زندگی سے عملاً خارج کر دیا گیا ہے، ان کی نقل و حرکت محدود کی گئی ہے اور کم عمری و جبری شادیوں میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں مذہبی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

عدالتی نظام پر سوالات

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق موجودہ عدالتی ڈھانچہ آزادی، شفافیت اور منصفانہ قانونی عمل سے محروم ہے۔ حالیہ جاری کردہ فوجداری قوانین میں جسمانی سزاؤں اور سزائے موت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قانون کو مرکزی کنٹرول کے آلے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اسے الٰہی حکم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے خوف اور دھمکی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

حکمرانی کا ماڈل یا جبر؟

ماہرین نے مزید کہا کہ طالبان عدالتوں کے طریقۂ کار اور نفاذی نظام میں کوڑوں کی سزا کو معمول بنایا جا رہا ہے اور اختیاری سزاؤں کو بڑھایا جا رہا ہے، جو اصلاح نہیں بلکہ واضح پسپائی ہے۔ بیان کے مطابق سنسرشپ اور خواتین کے خلاف پابندیاں براہِ راست اعلیٰ قیادت کے اختیار میں نافذ کی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اندرونِ ملک خوف پر مبنی حکمرانی کے ساتھ ساتھ شدت پسند نیٹ ورکس کے لیے سازگار ماحول خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مؤثر توجہ دی جائے اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ مضامین

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *