آزاد جموں و کشمیر کے ممتاز رہنما احمد رضا قادری نے جے اے اے سی (جوائنٹ ایکشن کمیٹی) کے موقف اور اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ یہ 1961 کے بنیادی جمہوریت کے نظام سے مسلسل جاری ہے۔
احمد رضا قادری نے واضح کیا کہ 1974 کے آئینی ایکٹ کے تحت پارلیمانی نظام میں بھی اس نمائندگی کو مکمل احترام کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 1974 کے ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی جمہوری حکومت میں آزاد کشمیر کے پہلے وزیراعظم کا انتخاب بھی مہاجرین ہی میں سے ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نمائندگی ہمیشہ سے آزاد کشمیر کے سیاسی اور آئینی نظام کا لازمی حصہ رہی ہے اور اس کی تاریخی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ احمد رضا قادری کے مطابق اس آئینی نظام کی موجودہ مخالفت صرف ایک مخصوص اور محدود گروہ کی جانب سے کی جا رہی ہے، جو عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ گروہ یا تو تاریخ اور آئین سے متعلق غلط معلومات کا شکار ہے یا پھر قصداً کسی بیرونی اشارے پر آزاد کشمیر کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
دیکھیے: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ استحصالِ کشمیر منایا جا رہا ہے