بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد عالمی میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں بار بار بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو “علیحدگی پسند” گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی بھی طور پر سیاسی یا علیحدگی پسند تحریک نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، جسے پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ اور برطانیہ بھی باضابطہ طور پر کالعدم دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق “علیحدگی پسندی” ایک سیاسی اصطلاح ہے، جس کا تعلق عوامی حمایت، سیاسی جدوجہد اور مذاکراتی عمل سے ہوتا ہے، جبکہ بی ایل اے کی سرگرمیاں خودکش حملوں، عام شہریوں، مزدوروں اور غیر مسلح افراد کو نشانہ بنانے، اور ریاستی و عوامی انفراسٹرکچر کی تباہی پر مشتمل ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں کسی بھی صورت میں سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، جنہیں نہ بین الاقوامی قانون اور نہ ہی انسانی حقوق کے کسی معیار کے تحت جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے حملوں میں مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ گروہ کسی عوامی مقصد یا سیاسی ایجنڈے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو “سیاسی مزاحمت” کا رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
ناقدین نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ الجزیرہ جیسے ادارے، جو خود کو مسلم دنیا میں مظلوموں کی آواز قرار دیتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے بیانیے کو نرم یا ہمدردانہ انداز میں کیوں پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف مسلم عوام کے حقوق کی بات کرنا اور دوسری جانب ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کو سیاسی فریم میں پیش کرنا، صحافتی ساکھ کے لیے شدید نقصان دہ تضاد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی دہشت گرد تنظیم کو “معصوم”، “مظلوم” یا “سیاسی فریق” کے طور پر پیش کرنا صحافت نہیں بلکہ کھلی پروپیگنڈا کاری ہے۔ ان کے مطابق بار بار بیانیہ دہرانے سے دہشت گردی کی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی تشدد، قتل و غارت اور خوف پھیلانے کو کسی بھی صورت سیاسی جدوجہد کا نام دیا جا سکتا ہے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین نے عالمی میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ رپورٹنگ میں ذمہ داری، حقائق اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حیثیت کو مدنظر رکھیں، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ زبان نہ صرف دہشت گردی کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے بلکہ متاثرہ علاقوں میں امن اور استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا