دفاعی اور قانونی ماہرین نے افغان طالبان کے قریبی میڈیا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کی جانب سے پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گمراہ کن بیانیے کا واحد مقصد افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ٹی ٹی پی کی سہولت کاری کے اصل مسئلے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
تجزیہ کاروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان 1947 میں ‘دو قومی نظریہ’ کے تحت اسی سرزمین پر موجود مسلمانوں کی نمائندگی کے طور پر نقشے پر ابھرا، جبکہ اس کے برعکس اسرائیل کا قیام 1948 میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور زمین پر قبضے کا نتیجہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان کوئی بھی تقابل تاریخی اور اخلاقی طور پر ناممکن ہے۔ مزید برآں، اقوامِ متحدہ یا عالمی عدالتِ انصاف کی سطح پر پاکستان کو ‘قابض’ قرار دینے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں، جبکہ فلسطین ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ مقبوضہ علاقہ ہے۔
په وروستیو کلونو کې د پاکستان د پوځي رژیم دننه نارضایتي ډېره زیاته شوې، د مذهبي کړیو، ای اېس ای، پوځ او مرکزي حکومت ترمنځ اختلافات په اوج کې وو. یوې بهرنۍ سوژې ته اړتیا وه ترڅو د خلکو ذهنونه مصروف شي او نظام له پاشل کېدو څخه وساتل شي…
— Almirsaad Pashto (@Almirsad_Pashto) April 1, 2026
🔗پاته ولولئhttps://t.co/GgX6cZ8A5u
ماہرین نے تحریکِ طالبان پاکستان کا موازنہ ‘حماس’ سے کرنے کو ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس ایک غیر ملکی قابض قوت کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جبکہ ٹی ٹی پی ایک خود مختار مسلم ریاست کے اندر مساجد، اسکولوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس طرح کا بیانیہ دراصل ایک ‘خوارجی طرز’ کی تحریف ہے جس کا مقصد ایک مسلم ریاست کے خلاف تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حقائق اس کے برعکس ہیں کہ افغانستان میں اب بھی 23 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں جو خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی فریم ورکنگ محض ایک ڈھال ہے تاکہ ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی پر پردہ ڈالا جا سکے۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن؛ خیبرپختونخوا میں 13 دہشت گرد جہنم واصل