پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں قیادت اور فیصلے سازی کے اختیارات پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق، علیمہ خان کی جانب سے پارٹی معاملات میں مبینہ مداخلت اور ‘خود ساختہ قیادت’ کے رجحان نے تنظیم کے اندر انتشار کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان جن کے پاس پارٹی کا کوئی رسمی عہدہ نہیں ہے، ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مخلص کارکنان کو دیوار سے لگا کر پارٹی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے حالیہ اقدامات کا مقصد پارٹی کی خدمت کے بجائے محض خود کو قانونی گرفت سے بچانا معلوم ہوتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات میں تو عدالتوں میں جذباتی انداز اختیار کرتی ہیں، لیکن اپنے خلاف جاری قانونی کارروائیوں میں پیش ہونے سے گریزاں رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد کردہ قائدین اور متعلقہ ڈاکٹرز اپنا کام بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور پوری جماعت ان پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ تاہم، علیمہ خان اور سہیل آفریدی کے بارے میں تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے تمام اختیارات اپنے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اس رویے نے پارٹی کے اندر کھینچا تانی اور ٹوٹ پھوٹ کی فضا کو جنم دیا ہے۔
پارٹی کے مخلص حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مفاد پرستی پر مبنی یہ ایجنڈا تحریک انصاف کے اتحاد اور تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اس قسم کی ‘خود ساختہ قیادت’ کا سلسلہ جاری رہا تو سیاسی طور پر جماعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔