مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

امیر خان متقی کی پروفیسر ابراہیم کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہ صرف عوام کو قریب لائے گی بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔
امیر خان متقی کی پروفیسر ابراہیم کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات

وفد کے اراکین نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے مسائل پر قابو پانا ضروری ہے۔ وفد نے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون اور مکالمے کے ذریعے خطے کو پرامن اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔

September 28, 2025

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے جماعت اسلامی پاکستان کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت محترم پروفیسر محمد ابراہیم نے کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مختلف سطحوں پر وفود کے دورے دونوں عوام کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں جماعت اسلامی کی سماجی خدمات کو سراہا اور کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا خطے میں امن و استحکام قائم کرنے میں نمایاں کردار ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہ صرف عوام کو قریب لائے گی بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔

اس موقع پر پروفیسر محمد ابراہیم اور وفد کے دیگر اراکین نے افغانستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان قربت پر زور دیا۔ انہوں نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں بہتری کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

وفد کے اراکین نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے مسائل پر قابو پانا ضروری ہے۔ وفد نے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون اور مکالمے کے ذریعے خطے کو پرامن اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔

دیکھیں: امارت اسلامیہ کا روس، چین، پاکستان اور ایران کے افغانستان سے متعلق بیان کا خیر مقدم

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *