انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے اس کی غیر جانبداری، انتظامی ساکھ اور انسانی حقوق سے متعلق انتخابی مؤقف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق تنظیم نے ایک بار پھر افغان طالبان اور اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کے غیر مصدقہ اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیانیے کو نمایاں کیا ہے، جبکہ سرحد پار سے جاری دہشت گردی کے متاثرین کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل مسلسل طالبان اور یوناما کے ذرائع سے سامنے آنے والی شہری ہلاکتوں کی رپورٹس کو پیش کرتی رہی ہے، لیکن افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے کالعدم گروہوں کے حملوں میں شہید ہونے والے ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان جیسے محدود رسائی والے ماحول میں معلومات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ رپورٹ میں ایمنسٹی کا انحصار زیادہ تر یوناما کی معلومات پر رہا ہے، حالانکہ طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں یوناما کے محدود طریقہ کار اور مقامی ذرائع کی مصدقہ نوعیت پر پہلے بھی تحفظات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ایسے ایک طرفہ ذرائع کا استعمال رپورٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔
خبری ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ صرف شہری ہلاکتوں کے یکطرفہ دعوؤں کو اجاگر کرنے سے افغان طالبان کے اس بیانیے کو تقویم ملتی ہے جس میں وہ اپنی دہشت گردانہ حکمتِ عملی اور حقیقی پس منظر کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ رپورٹس اس بنیادی حقیقت کو بھی نظر انداز کرتی ہیں کہ طالبان کی جانب سے عام آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ناقدین نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والے مسلسل دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں پاکستان کو اپنے دفاع اور دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا بین الاقوامی قانون کے تحت کامل اور تسلیم شدہ حق حاصل ہے۔