امریکی عدالت نے بھارتی شہری اتھرو شیلش سٹھاوانے کو بزرگ شہریوں سے تقریباً 15 ملین ڈالر کے بڑے مالیاتی فراڈ میں ملوث ہونے پر 18 سال قید کی سزا سنا دی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم ایک منظم اسکیم کا حصہ تھا جس کے ذریعے امریکہ میں مقیم معمر افراد کو دھوکہ دے کر بھاری رقوم ہتھیائی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ متاثرین کے اعتماد اور سماجی تحفظ کے احساس کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔
امریکی عدالتی کارروائی میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے تکنیکی ذرائع اور جعلی نمائندگی کے ذریعے بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ عدالت نے جرم کی سنگینی اور متاثرین کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت سزا سنائی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکی عدالتوں میں بھارتی شہریوں سے متعلق بعض نمایاں مقدمات نے مغربی ممالک کے لیے سکیورٹی اور قانونی فریم ورک کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ بعض حلقے اس پیش رفت کو انفرادی جرائم سے آگے بڑھ کر وسیع تر سکیورٹی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، خصوصاً ایسے مقدمات کی روشنی میں جن میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے را سے منسلک افراد کے خلاف بھی امریکہ میں کارروائیاں زیرِ سماعت رہی ہیں۔
مزید برآں، کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی اور امریکہ میں مبینہ قتل کی سازش کے مقدمے جیسے واقعات نے بھی مغربی سیاسی و انٹیلی جنس حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ کسی بھی ملک کے شہریوں کے جرائم کو ریاستی پالیسی سے براہِ راست جوڑنا احتیاط طلب معاملہ ہے، تاہم تسلسل کے ساتھ سامنے آنے والے ایسے کیسز شراکت داری اور اعتماد کے بیانیے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون کی عملداری بلا امتیاز جاری رہے گی اور کسی بھی فرد یا گروہ کو مالیاتی یا سکیورٹی جرائم میں ملوث پائے جانے پر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔