طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں بتدریج شدت آ رہی ہے اور یہ تحاریک اپنے روایتی گڑھوں سے نکل کر دیگر صوبوں تک پھیلنا شروع ہو گئی ہیں۔ صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل پر مختصر وقت کے لیے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے حامد صیفی کی قیادت میں صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اگرچہ طالبان انتظامیہ ملک گیر سطح پر تمام تر صورتحال پر اپنے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم تازہ ترین پیش رفت کے مطابق مزاحمتی گروہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم اور فعال دکھائی دے رہے ہیں۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروپس اب شمالی علاقوں تک محدود رہنے کے بجائے دیگر تزویراتی مقامات پر بھی طالبان کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مختلف افغان صوبوں میں عسکری سرگرمیوں کا یکبارگی ابھرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان مخالف پیش قدمی محض الگ تھلگ واقعات تک محدود نہیں رہی۔
یہ کارروائیاں اب ایک منظم مسلح مہم کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان کو اپنی سیکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر مسلسل متحرک اور تعینات رکھنا پڑ رہی ہیں۔
محل وقوع کے اعتبار سے بیک وقت متعدد علاقوں میں ابھرنے والے ان مقامی چیلنجز نے طالبان کی مرکزی حکومت کے لیے افغانستان پر مکمل گرفت کا تاثر قائم رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان مزاحمتی لہروں کے باعث آنے والے دنوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔