یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے ایک بار پھر 20 عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان میں اپنے حق میں طاقت کا توازن مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ دو سوشل میڈیا کرداروں کو بھی عہدوں سے نوازا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق شیخ عزیز الرحمن منصور، نائب وزیر برائے رہنمائی حج، اوقاف اور مذہبی امور کو صوبہ پروان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی تور جان احمدی، صوبہ نمروز کے نائب گورنر کو صوبہ دائی کنڈی کا گورنر بنایا گیا ہے، جہاں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ حاجی ارسلا خروٹی، نائب وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ (فنانس اینڈ ایڈمنسٹریشن) کو وزارت دیہی ترقی میں سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی محمد ربانی ناصح، ڈائریکٹوریٹ آف کلچرل اینڈ سوشل افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل کو ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کی وزارت میں خزانہ و انتظامیہ کا سیکریٹری بنایا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق مفتی محمد طاہر احمد، سپریم کورٹ کے دارالافتاء ڈائریکٹوریٹ کے رکن کو جہادی میوزیم کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی نذیر احمد نصیر، ہیبت اللہ سیکریٹریٹ کے رکن کو دائی کنڈی گورنر ہاؤس میں ڈپٹی ڈائریکٹر لگایا گیا ہے۔ مولوی عبدالباری عاطف، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمنسٹریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر (نگرانی و پالیسی) کو وزیراعظم کے دفتر کے تعلقات عامہ کا ڈپٹی ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔
اسی طرح مولوی امین اللہ طیب، وزارت دفاع کے سپورٹ بریگیڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو صوبہ پکتیکا کا پولیس چیف مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی نجیب اللہ بدخشی، صوبہ لغمان کے پولیس چیف کو صوبہ نمروز کا نائب گورنر بنایا گیا ہے، جبکہ ملا نجیب اللہ رفیع، صوبہ دائی کنڈی کے گورنر کو سپریم کورٹ کے جنرل یونٹس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
مولوی محمد اللہ بارا، صوبہ پکتیکا کے پولیس چیف کو وزارت دفاع کے سپورٹ بریگیڈ کا ڈپٹی چیف بنایا گیا ہے۔ قاری عبدالستار سعید، وزیراعظم آفس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ (تعلقات عامہ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو جہادی میوزیم کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ قاری احمد اللہ سعید، وزارت اطلاعات و ثقافت کے مشیر کو جہادی میوزیم کے ڈاکومنٹس رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ لگایا گیا ہے۔
مولوی سید نور احمد سعید، صوبہ قندھار کے محکمہ شماریات و اطلاعات کے سربراہ کو جہادی پبلیکیشنز اینڈ لائبریری ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ مولوی محمد عواد سعید، سپریم کورٹ سیکورٹی یونٹس کے کمانڈر کو قندھار زون پولیس ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سینٹر کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
ملا ہیبت اللہ کے حکم نامے کے مطابق مفتی محمد ادریس انوری، صوبہ پروان کے گورنر کو ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ لگایا گیا ہے۔ مولوی ریاض اللہ حقانی، ننگرہار جہادی مدرسہ کے سربراہ کو صوبہ قندھار کے محکمہ شماریات و اطلاعات کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ مولوی مطیع اللہ فاروقی، قندھار زون پولیس ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سینٹر کے کمانڈر کو سپریم کورٹ سیکورٹی یونٹس کا ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح مولوی عبدالرازق شاکر، بدخشاں کی اشکاشم بندرگاہ کے کمشنر کو فاریاب یونیورسٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ مولوی عبدالبصیر مظاہری (پشتون النسل شخصیت) کو بدخشاں کا نیا سیکورٹی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو ایک نئی تقرری ہے، تبادلہ نہیں۔
ملا ہیبت اللہ نے اپنے وفاداروں کو کلیدی عہدوں پر تعینات کرکے کابل اور دیگر علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھایا ہے۔ یہ رجحان وزارت دفاع، سپریم کورٹ اور صوبائی سیکورٹی عہدوں پر مرکزی احکامات کے تحت کی گئی تبدیلیوں میں واضح ہے۔ زیادہ تر نئے تعینات افراد پشتون ہیں اور غیر پشتون اکثریتی علاقوں (دائی کنڈی، بدخشاں، بامیان وغیرہ) میں بھی پشتون افسران کو اہم عہدوں پر لایا جا رہا ہے۔ بدخشاں میں مولوی عبدالبصیر مظاہری کی سیکورٹی کمانڈر کی تقرری اسی سلسلے کی ایک مثال ہے، جس سے مقامی طالبان ناراض ہیں۔ اسی طرح دائی کنڈی (ہزارہ اکثریتی علاقہ) میں مولوی تور جان احمدی کی گورنری بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
اہم شخصیات
مولوی تور جان احمدی، نئے گورنر دائی کنڈی، نمروز سے تعلق رکھنے والے پشتون اور ملا ہیبت اللہ کے قریبی وفادار سمجھے جاتے ہیں۔ مولوی امین اللہ طیب، صوبہ پکتیکا کے سیکورٹی چیف، قندھاری گروپ سے وابستہ ہیں، جبکہ مولوی محمد ربانی ناصح، سابق نائب والی ننگرہار، بھی ہیبت اللہ کے قندھاری حلقے کا حصہ ہیں۔
اس کے برعکس جن شخصیات کو اہم عہدوں سے کم اہم ذمہ داریوں پر منتقل کیا گیا، ان میں مشترک بات یہ ہے کہ ان کا تعلق نہ ملا ہیبت اللہ کے قبیلے (نورزئی) سے ہے اور نہ ہی اس کے قریبی گروپ سے۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت