"> اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ویڈیو کا سچ سامنے آ گیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور کشمیر کمیٹی

اصول پسندی یا صرف اقتدار کی ہوس؟

مولانا فضل الرحمان کی سیاست ہمیشہ اصولوں سے زیادہ مصلحتوں کے گرد گھومی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے غیر فعال دور سے لے کر اپنے ہی گڑھ ڈیرہ اسماعیل خان میں شکست تک، ان کا سیاسی سفر مفاد پرستی کی داستان ہے۔

خار کے موجودہ اسسٹنٹ کمشنر عامر وزیر کا وائرل ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں؛ حقائق سامنے آ گئے

سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ تشدد کی شیئر کردہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ہے، جسے موجودہ انتظامیہ سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔
سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ تشدد کی شیئر کردہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ہے، جسے موجودہ انتظامیہ سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔

صحافی اسد طور کی جانب سے شیئر کی گئی اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ویڈیو کا فیکٹ چیک؛ سچائی سامنے آنے پر حالیہ واقعے کا دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ثابت۔

July 6, 2026

سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو ان دنوں شدید بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے مبینہ طور پر ایک خوانچہ فروش پر تشدد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ یہ حال ہی میں پیش آنے والا کوئی واقعہ ہے، جس کا ذمہ دار موجودہ ضلعی انتظامیہ کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

حقائق کی جانچ

تاہم، اس وائرل مواد کی حقائق کی جانچ (فیکٹ چیک) سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو بالکل نئی نہیں ہے، بلکہ درحقیقت پاکستان میں 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس ویڈیو کو اس کی اصل تاریخ اور پس منظر کے بغیر دوبارہ شیئر کیا گیا ہے، جس کے باعث ناظرین میں یہ غلط تاثر پیدا ہوا کہ یہ موجودہ انتظامیہ کا کوئی حالیہ اقدام ہے۔

ویڈیو کا اصل تاریخی پس منظر

رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو 2020 میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے عروج پر بنائی گئی تھی، جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا تھا۔ اس دور میں اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو بازاروں، کاروباری مراکز اور عوامی مقامات پر عائد پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، اور یہ واقعہ اسی تناظر میں پیش آیا تھا۔

موجودہ انتظامیہ

فیکٹ چیک میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا افسر موجودہ اسسٹنٹ کمشنر خار نہیں ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق، ویڈیو میں دکھائی دینے والا افسر 2020 میں اس عہدے پر تعینات تھا اور اس کا تعلق صوبائی مینجمنٹ سروس سے تھا، جبکہ خار کے موجودہ اسسٹنٹ کمشنر عامر وزیر ہیں، جو اس واقعے کے وقت اس منصب پر سرے سے تعینات ہی نہیں تھے۔

حتمی نتیجہ

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پرانی ویڈیو کو اس کے اصل وقت، حالات اور سیاق و سباق کے بغیر پیش کرنا سراسر گمراہ کن ہے، جو ناظرین کو موجودہ ضلعی انتظامیہ سے متعلق غلط نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق، اس وائرل ویڈیو کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں اور اسے سوشل میڈیا پر گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

چاغی کے دشوار گزار علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران تین دہشت گرد ہلاک اور ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 19, 2026

مولانا فضل الرحمان کی سیاست ہمیشہ اصولوں سے زیادہ مصلحتوں کے گرد گھومی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے غیر فعال دور سے لے کر اپنے ہی گڑھ ڈیرہ اسماعیل خان میں شکست تک، ان کا سیاسی سفر مفاد پرستی کی داستان ہے۔

October 19, 2026

محسن نقوی نے قطر میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے، علاقائی سلامتی اور امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر بات کی۔

October 19, 2026

پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس میں حکومت سے مذاکرات کی ناکامی اور فیصلے چھپانے پر شدید اختلافات سامنے آ گئے۔ اراکین نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا مطالبہ کیا جسے بیرسٹر گوہر نے مسترد کر دیا۔

October 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *