سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں مولانا فضل الرحمٰن کے مفادات کے مطابق تھیں، وہ ان کے ساتھ تھے۔ اب پالیسیوں سے اختلاف کے بعد ان کا مؤقف تبدیل ہو گیا ہے۔
ایچ ٹی این سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی کردار اور ملکی صورتحال سے متعلق بیانات پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے مولانا کے موجودہ مؤقف کو ان کے سیاسی اور مذہبی پس منظر سے جوڑا۔
فواد چوہدری کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے وابستہ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں سے اختلاف کے بعد مولانا نے اپنا سیاسی راستہ الگ کر لیا ہے۔
گفتگو میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں اختیارات کی منتقلی کے لیے نئے صوبوں کے قیام اور مقامی حکومتوں کے نظام پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتی ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں اس معاملے کو انتظامی ضرورت کے بجائے صوبائی شناخت سے جوڑ دیا گیا ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اختیارات کی منتقلی کے لیے مقامی حکومتوں اور نئے صوبوں، دونوں راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق مقامی حکومتوں کے ذریعے مالی اختیارات تو منتقل کیے جا سکتے ہیں، لیکن انتظامی اور سیاسی اختیارات کی مکمل منتقلی کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں انتظامی امور بہتر بنانے کے لیے نئے صوبوں اور اختیارات کی مؤثر تقسیم کی ضرورت ہے۔





