عالمی رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی کاوشوں کو اہم پیش رفت قرار دیا اور خطے میں امن کیلئے اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔

April 9, 2026

اس سے قبل بھی بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کے دفاعی معاملات سے متعلق غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

April 9, 2026

امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا سرکاری رابطہ ہے جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 9, 2026

یہ نامزدگی دونوں رہنماؤں کی امن کے قیام کیلئے کوششوں کے اعتراف کے طور پر پیش کی گئی ہے، جبکہ نوبل کمیٹی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

April 9, 2026

ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

April 9, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور جے ڈی وینس نوبل امن انعام 2027 کیلئے نامزد، سکھ فار جسٹس نے درخواست جمع کروا دی

یہ نامزدگی دونوں رہنماؤں کی امن کے قیام کیلئے کوششوں کے اعتراف کے طور پر پیش کی گئی ہے، جبکہ نوبل کمیٹی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
فیلڈ مارشل نوبل پرائز کے لئے نامزد

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے “کمانڈ ڈپلومیسی” کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ ممکن بنایا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عمل کے لیے کلیدی سیاسی فیصلے کیے۔

April 9, 2026

اسلام آباد: تنظیم سکھ فار جسٹس نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو 2027 کے نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرتے ہوئے ناروے کی نوبل کمیٹی کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے، نامزدگی کو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں کردار سے جوڑا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایف جے کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں شخصیات نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے “کمانڈ ڈپلومیسی” کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ ممکن بنایا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عمل کے لیے کلیدی سیاسی فیصلے کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں ایک ممکنہ بڑے عالمی تصادم کا خطرہ ٹل گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ نامزدگی دونوں رہنماؤں کی امن کے قیام کیلئے کوششوں کے اعتراف کے طور پر پیش کی گئی ہے، جبکہ نوبل کمیٹی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایس ایف جے نے پاکستان اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ خالصتان کے مسئلے کے حل کیلئے بھی اسی طرز کی سفارتی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ دیرینہ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

تنظیم نے بھارتی حکومت پر سکھوں کے خلاف ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ بھارتی پنجاب کی صورتحال تشویشناک ہے، تاہم نئی دہلی کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ نوبل امن انعام کیلئے نامزدگیوں کا عمل خفیہ ہوتا ہے اور مختلف افراد و ادارے سفارشات پیش کر سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ نوبل کمیٹی کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

دیکھئیے:وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

متعلقہ مضامین

عالمی رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی کاوشوں کو اہم پیش رفت قرار دیا اور خطے میں امن کیلئے اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔

April 9, 2026

اس سے قبل بھی بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کے دفاعی معاملات سے متعلق غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

April 9, 2026

امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا سرکاری رابطہ ہے جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *