پاکستان میں متعین آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ سفری ایڈوائزری اور آسٹریلیا کے سمارٹ ٹریولر پورٹل پر پاکستان سے متعلق عمومی دعوؤں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان نے آسٹریلوی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی اداروں اور معاشرے کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے والی اس مبالغہ آمیز زبان کا ازسرِنو جائزہ لیں۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) میں 6 سے 20 جون 2026 کے دوران احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے، جو ممکنہ طور پر پرتشدد بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلوی مسافروں کو موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پورے علاقے کے سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
Protests, possibly violent, in Azad Jammu and Kashmir, Pakistan-administered Kashmir, are forecast from 6-20 June 2026, and travellers should avoid the entire area due to the situation.https://t.co/E5polKCJ45
— Timothy Kane (@AusHCPak) June 6, 2026
اس ایڈوائزری کے جواب میں سامنے آنے والے نیریٹو کے مطابق پاکستان آسٹریلیا کے اس حق کا احترام کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سفری تحفظ کے حوالے سے مشورے فراہم کرے، تاہم آسٹریلیا کی موجودہ سمارٹ ٹریولر ایڈوائزری احتیاطی مشورے سے آگے بڑھ کر ایک دوست اور شراکت دار ملک کو خوف اور خطرات کے عمومی تاثر کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔
ایڈوائزری میں شہریوں کو مجموعی طور پر پاکستان کے سفر کی ضرورت پر دوبارہ غور کرنے کا کہنا اور اس کی وجوہات میں دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کا ذکر کرنا بلاجواز ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایڈوائزری میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں حملے “کابل، قندھار اور افغانستان کے دیگر مقامات پر پاکستانی دفاعی کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر ہو سکتے ہیں۔ اس موقف پر شدید اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ “ردعمل یا انتقامی کارروائی جیسے الفاظ غیر جانبدار حفاظتی زبان نہیں بلکہ سیاسی مفہوم رکھتے ہیں، جو دہشت گردی کو پاکستان کے قانونی دفاعی اقدامات کے جواب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔
مزید برآں، ایڈوائزری میں افغان اور پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہریوں کو ہراساں کیے جانے یا حراست میں لیے جانے کے عمومی دعوؤں پر پاکستانی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، پاکستان میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور لباس کے سخت ضابطوں جیسے جملوں کو عملی رہنمائی کے بجائے پورے پاکستانی معاشرے کی منفی تصویر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک سیدھا سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات آسٹریلوی سفارت خانے کا آخر اب تک کون سا اہلکار اغوا ہوا ہے؟
پاکستان نے آسٹریلوی ہائی کمیشن، محکمہ خارجہ و تجارت اور سمارٹ ٹریولر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس ایڈوائزری پر نظرِثانی کریں اور ملک گیر عمومی لیبلز لگانے کے بجائے متوازن، حقائق پر مبنی اور ضلع وار مخصوص معلومات فراہم کی جائیں، کیونکہ غیر متوازن زبان سفارتی تعلقات، سیاحت، تعلیم اور تجارت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔