پاکستان کی سکیورٹی کی صورتحال میں گزشتہ دو ماہ سے مسلسل بہتری کا جو رجحان سامنے آ رہا ہے، وہ بلاشبہ قومی سلامتی کے اداروں کی حکمتِ عملی اور ‘آپریشن غضب للحق’ کے دور رس اثرات کا عکاس ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی حالیہ رپورٹ، جس میں اپریل کے دوران عسکری حملوں میں 42 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے ٹھوس اور بے لچک موقف اختیار کرتی ہے تو اس کے نتائج زمینی حقائق کی تبدیلی کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔
دفاعی حکمتِ عملی کا نیا رخ
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کی جس نئی لہر کا سامنا تھا، اس نے قومی سلامتی کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ تاہم 26 فروری کو شروع ہونے والا “آپریشن غضب للحق” ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ افغان سرحد پار سے ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ اور عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کی گئی یہ کارروائی اس بات کا واضح پیغام تھی کہ پاکستان اب اپنی سرزمین پر بدامنی درآمد کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دے گا۔ اسی عسکری دباؤ کا نتیجہ ہے کہ اپریل میں نہ صرف حملوں کی تعداد 146 سے کم ہو کر 85 رہ گئی، بلکہ سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں بھی 53 فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔
علاقائی بہتری اور چیلنجز
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں عسکری حملوں میں 69 فیصد کی غیر معمولی کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ یہ صوبہ طویل عرصے سے بیرونی ایما پر کام کرنے والے عناصر کا ہدف رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں تشدد کی لہر کا 40 فیصد تک کم ہونا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک دباؤ کا شکار ہے۔ تاہم، بنوں میں خودکش حملے اور چاغی میں کان کنی کی تنصیب پر حملہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ دشمن ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور وہ اب بھی سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مذاکرات اور مستقل امن کی تلاش
چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات اور آپریشن کی عارضی معطلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سفارتی راستوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عسکریت پسند گروہ مذاکرات کے وقفوں کو اپنی صف بندی کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا، ریاست کو اپنی ‘انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز’ کی رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ عسکریت پسندوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ پنجاب اور سندھ جیسے علاقوں میں حملوں کا نہ ہونا سکیورٹی اداروں کی مستعدی کا ثبوت ہے، لیکن اسے مستقل امن سمجھ کر غافل ہونا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جانی و مالی نقصان کا تدارک
رپورٹ میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان میں کمی کا پہلو سب سے زیادہ اطمینان بخش ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب قدم بڑھا رہا ہے، امن و امان کی یہ صورتحال غیر ملکی سرمایہ کاری اور مقامی ترقی کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے سال کے پہلے چار ماہ میں تقریباً ایک ہزار عسکریت پسندوں کو جہنم واصل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ریاست کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
حرفِ آخر
مجموعی طور پر اپریل کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری ایک حوصلہ افزا علامت ہے، مگر یہ منزل نہیں بلکہ ایک طویل سفر کا آغاز ہے۔ مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ ‘آپریشن غضب الحق’ کے عسکری ثمرات کو سیاسی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے مستحکم کیا جائے۔ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اور اندرونِ ملک انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے مستقل نجات دلا سکتا ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں کے اس تسلسل کو ٹوٹنے نہ دے اور سکیورٹی اداروں کی ان قربانیوں کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔