پاکستان کے مالیاتی منظرنامے میں اپریل 2026 ایک غیر معمولی مہینہ ثابت ہوا۔ ایسا مہینہ جس میں ایک ہی اسٹیٹ بینک بیلنس شیٹ پر دو متضاد فیصلوں نے نہ صرف معاشی حقیقت بلکہ سفارتی سمت کا بھی تعین کر دیا۔ متحدہ عرب امارات نے سات سال سے جاری 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو مکمل طور پر واپس لے لیا، جبکہ اسی دوران سعودی عرب نے نہ صرف 3 ارب ڈالر کا نیا ڈپازٹ فراہم کیا بلکہ اپنے 5 ارب ڈالر کے موجودہ ذخائر کو 2028 تک توسیع بھی دے دی۔ بظاہر یہ محض مالی لین دین تھا، مگر درحقیقت یہ ایک گہرا سفارتی اشارہ تھا کہ دو خلیجی طاقتوں کی جانب سے ایک ہی ملک کی پالیسی پر دو مختلف “ووٹ”۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ خلیجی ممالک نے خطے میں مالی اثرورسوخ استعمال کیا ہو، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ خود ڈپازٹ کا آلہ بطور “سیاسی سگنل” استعمال ہوا۔ ماضی میں خلیجی ڈپازٹس کو بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ایک غیر جانبدار سرمایہ جو سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا رہتا تھا۔ مصر، اردن، بحرین، سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کے زرِ مبادلہ ذخائر میں یہ ڈپازٹس ایک مستحکم سہارا سمجھے جاتے تھے، جن کا تعلق براہِ راست خارجہ پالیسی سے نہیں جوڑا جاتا تھا۔ مگر اپریل 2026 میں یہ اصول ٹوٹ گیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امارات کا مؤقف غیر معمولی حد تک واضح تھا۔ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے دوران امارات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا، اور اسی تناظر میں پاکستان کے “غیر جانبدار” کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔ ابو ظہبی نے پہلے سالانہ رول اوور کو ماہانہ بنیادوں پر محدود کیا اور پھر اچانک مکمل انخلا کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کی ثالثی میں ہرمز فریم ورک زیرِ غور آیا، جسے عالمی سطح پر ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کا ردعمل اس کے برعکس تھا۔ صرف سات دن کے اندر اندر ریاض نے مالی خلا کو پُر کیا، جو نہ صرف معاشی اعتماد کا اظہار تھا بلکہ پاکستان کی اسی غیر جانبدار پالیسی کی تائید بھی۔ ستمبر 2025 کے سعودی-پاکستان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے نے اس تعلق کو پہلے ہی ایک نیا فریم فراہم کر دیا تھا، جبکہ عسکری اور سفارتی ہم آہنگی نے اسے مزید مضبوط کیا۔
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے ابھی تک واضح طور پر تسلیم نہیں کیا گیا: خلیجی ڈپازٹس اب صرف مالی سہارا نہیں رہے، بلکہ “سیاسی ریفرنڈم” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یعنی اب کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر خلیجی ریاستوں کی رائے کا اظہار براہِ راست مالی فیصلوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصر، اردن، سری لنکا، لبنان اور دیگر ممالک کے زرِ مبادلہ ذخائر میں موجود خلیجی ڈپازٹس بھی اب مشروط حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ہر رول اوور، ہر توسیع، اور ہر واپسی ایک سفارتی پیغام بن سکتی ہے—ایک ایسا پیغام جو بین الاقوامی تعلقات کی نئی زبان تشکیل دے رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک دوہری حقیقت رکھتا ہے۔ ایک طرف اسے مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، دوسری طرف اسے اپنی سفارتی حکمتِ عملی کی تائید بھی حاصل ہوئی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو اپریل میں دو بار “ادائیگی” ملی۔ ایک اس فیصلے کے بدلے جو اس نے کیا، اور دوسری اس موقف کے بدلے جسے اس نے اختیار کرنے سے انکار کیا۔
حساب کتاب تو متوازن ہو گیا، مگر نظام بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ڈپازٹس کتنے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے پیچھے کھڑی سیاست کیا ہے۔