بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے ہولناک واقعے کو ایک برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کے سیاسی اور سفارتی افق پر سیاہ بادلوں کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ ممتاز قانون دان حسن اسلم شاد کا تجزیہ اور ڈاکٹر ربیعہ اختر کا تبصرہ اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جب ایٹمی قوتوں کے مابین شواہد کی بنیادیں مفروضوں کی نذر ہو جائیں اور قانون کی جگہ سیاسی بیانیہ متمکن ہو جائے، تو خطہ کس طرح تباہی کے دہانے پر آن کھڑا ہوتا ہے۔
جذباتیت بمقابلہ شواہد
پہلگام حملے کے فوری بعد بھارتی حکام اور وہاں کے میڈیا نے جس عجلت کے ساتھ الزام کا رُخ پاکستان کی جانب کیا، وہ کسی شفاف تحقیقاتی عمل کا ثمر نہیں بلکہ ایک پیشگی تیار شدہ اسکرپٹ کا تسلسل معلوم ہوتا تھا۔ بین الاقوامی قوانین کا بنیادی تقاضا ہے کہ کسی بھی سرحد پار اقدام سے قبل مؤثر کنٹرول یا مجموعی کنٹرول کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جائیں۔ نیز قانونی نظیروں سے یہ ثابت ہے کہ محض الزامات یا عمومی وابستگی کسی ریاست کے خلاف قوت کے استعمال کا اخلاقی و قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی۔ بھارت کا المیہ یہ رہا کہ اس نے سیاسی مصلحتوں کی خاطر جذباتیت کو ٹھوس شواہد کا نعم البدل سمجھ لیا۔
پاکستان کی تزویراتی ذمہ داری
پاکستان نے اس بحران کے دوران سفارتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی منصفانہ پیشکش کی۔ یہ پیشکش محض ایک روایتی سفارتی فعل نہیں تھا، بلکہ اس عالمی ضابطہ کار کی پیروی تھی جس کے ذریعے حقائق اور الزامات کے مابین فرق واضح کیا جا سکتا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ 2014 میں ملائیشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ17 کی تباہی اور 1988 کے لاکربی بم دھماکے جیسے لرزہ خیز واقعات کے بعد بھی مہذب اقوام نے اشتعال انگیزی کے بجائے مشترکہ تفتیش اور قانونی اشتراکِ عمل کو ترجیح دی۔ بھارت کا اس شفاف عمل سے گریز اس امر کا غماز ہے کہ اس کی جستجو حقائق کی دریافت نہیں بلکہ اپنے توسیعی مقاصد کے لیے ایک خود ساختہ ‘دشمن’ کی تخلیق تھی۔
آپریشن سندھور
بھارت کی جانب سے ‘آپریشن سندھور’ کو ایک مبہم اور معلق کیفیت میں رکھنا خطے کے امن کے لیے ایک مستقل تازیانہ ہے۔ اس عسکری مہم کا منطقی انجام کے بجائے محض التواء میں رہنا اس تزویراتی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ بھارت خطے کو مسلسل جنگی ہیجان میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ مئی 2025 کی سرحدی جھڑپیں اس خوفناک حقیقت کا پیش خیمہ تھیں کہ کس طرح غلط فہمیاں دو ایٹمی ممالک کو ایک ایسی جنگ کی جانب دھکیل سکتی ہیں جس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ جب ریاستیں حقائق کے بجائے واہموں پر سرحدیں گرم کرتی ہیں، تو ایٹمی ڈیٹرنس اور اسٹریٹجک توازن کی بنیادیں لرز اٹھتی ہیں۔
میڈیا کا کردار
بھارتی میڈیا نے اس بحران میں ایک فریق بن کر صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیر دیں اور اپنے اسٹوڈیوز کو ایسی عدالتوں میں بدل دیا جہاں فیصلے سماعت سے پہلے سنائے جاتے ہیں۔ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی اس روش نے عوامی سطح پر وہ ہیجان پیدا کیا جس نے سفارتی حل کی ہر گنجائش کو مسدود کر دیا۔ یہ ‘پوسٹ ٹروتھ’ صحافت کا وہ کریہہ چہرہ ہے جہاں تعصبات کو صداقت پر فوقیت دی جاتی ہے، اور یہیں سے وہ کشیدگی جنم لیتی ہے جسے سنبھالنا کسی بھی فریق کے بس میں نہیں رہتا۔
نظم و ضبط
پہلگام کا واقعہ عالمی برادری کے لیے ایک فکری تازیانہ ہے کہ ایٹمی خطے میں ‘پہلے وار اور بعد میں تفتیش’ کا نظریہ کسی خودکشی سے کم نہیں۔ اگر بین الاقوامی قوانین کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا، تو مستقبل کی کوئی بھی غلط فہمی ایک ایسے المیے کو جنم دے گی جس کی تلافی ممکن نہ ہوگی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ‘ریڈ لائنز’ کا تعین سیاسی لاف زنی کے بجائے عالمی سطح پر مستند شواہد پر ہونا چاہیے۔ وقت کی پکار ہے کہ جنوبی ایشیا میں بحرانوں کے پائیدار حل کے لیے جذباتیت کے حصار سے نکل کر بین الاقوامی قانون کی بالادستی، نظم و ضبط اور تحمل کے راستے کو اپنایا جائے۔