افغانستان اس وقت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف طالبان کی سخت گیر پالیسیاں عوام کا سانس بند کر رہی ہیں، تو دوسری جانب اسی دم گھٹتے ماحول سے بغاوت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹیں اور زمینی حقائق اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن کے نام پر جو خاموشی نافذ کی گئی تھی، وہ اب ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ افغانستان میں جاری انسانی المیے کا سب سے سیاہ باب خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم ہیں۔ طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی جس آدھی آبادی کو معاشی اور تعلیمی دھارے سے باہر نکالا، اب ان کی تذلیل کا دائرہ ان کی نجی زندگیوں اور انسانی وقار تک پھیل چکا ہے۔ کابل کی سڑکوں پر برقع نہ پہننے جیسی معمولی وجوہات پر خواتین پر سرعام تشدد اور ان کی گرفتاریاں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2024 میں صرف 7 فیصد افغان خواتین برسرِ روزگار رہ گئی ہیں، جو کہ ایک معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلخراش صورتحال پکتیکا جیسے علاقوں سے سامنے آئی ہے، جہاں خواتین کی “قیمت” مقرر کر کے انہیں تجارتی شے بنا دیا گیا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ پشتون روایات کے ماتھے پر بھی ایک بدنما داغ ہے، جہاں عورت کو “خریدے ہوئے غلام” کی حیثیت دے کر معاشرتی انحطاط کی انتہا کر دی گئی ہے۔
داخلی مزاحمت
طالبان کا یہ دعویٰ کہ ان کی حکومت تمام افغانوں کی نمائندہ ہے، اب اندرونی سطح پر ہی بری طرح مسترد ہو رہا ہے۔ سابق گورنر پکتیا محمد حلیم فدائی کا یہ بیان کہ حکومت صرف چند مخصوص ملاؤں یا ایک نسل کی نہیں ہونی چاہیے، طالبان کے نسلی تسلط کو بے نقاب کرتا ہے۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ طالبان کی قیادت میں 85 سے 95 فیصد تک پشتون شامل ہیں، جبکہ 58 فیصد غیر پشتون آبادی کو فیصلہ سازی سے مکمل باہر رکھا گیا ہے۔
یہی وہ منظم اخراج اور نسلی اجارہ داری ہے جس نے بدخشاں جیسے علاقوں میں بغاوت کے شعلوں کو ہوا دی ہے۔ مقامی نان پشتون کمانڈروں، جیسے درہ خستک کے زابط کریم، کی جانب سے بغاوت کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کا مرکزی کنٹرول اب کمزور پڑ رہا ہے۔ بدخشاں کے عوام کا یہ سوال کہ “ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے ہمارے گھروں پر کیوں قبضہ کیا جا رہا ہے؟” اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو اب مسلح تصادم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
بقا کی جنگ اور سیاسی انتشار
مارشل عبدالرشید دوستم کی جانب سے تاجک، ہزارہ اور ازبک قوموں کو بیدار ہونے کی اپیل اور احمد مسعود کے ساتھ مل کر نئے عسکری منصوبے کا اعلان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر داخلی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو شناخت، زبان، ثقافت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دے، تو مزاحمت ایک ناگزیر عمل بن جاتی ہے۔
نتیجہ فکر
افغانستان کی موجودہ صورتحال کسی ایک گروہ کی کامیابی نہیں بلکہ پوری افغان قوم کی ناکامی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ القاعدہ جیسے عالمی دہشت گرد گروہوں کا حکومتی ڈھانچے میں اسٹیک ہولڈر بننا اور کثیر الجہتی غربت کا 64.9 فیصد تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قندھار سے چلنے والا یہ مطلق العنان نظام ملک کو “ناکام ریاست” بنا چکا ہے۔ عالمی برادری اور طالبان کی صفوں میں موجود اعتدال پسند عناصر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں ملتے اور ایک جامع، ہمہ گیر حکومت قائم نہیں ہوتی، افغانستان میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔ بقا کی یہ جنگ اب صرف پہاڑوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ہر اس افغان شہری کے دل میں سلگ رہی ہے جو اپنے وقار اور آزادی کی تلاش میں ہے۔