افغانستان کی پائیدار سلامتی اور ترقی کا انحصار ایک ایسے سیاسی ڈھانچے پر ہے جو تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کو بااختیار بنائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جامع مکالمہ، آئینی اصلاحات اور وسیع البنیاد حکومت ہی ملک کو داخلی استحکام اور عالمی قبولیت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر نسلی و سیاسی تقسیم خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔