افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کے قریبی ساتھی کی ہلاکت کے بعد پاک افغان سرحد پر سکیورٹی صورتحال اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ میں بی ایل اے، القاعدہ اور داعش کے گٹھ جوڑ کے ثبوت سامنے آنے کے بعد 1267 کمیٹی میں پاکستان کی تجویز پر رکاوٹ ڈالنے والے مغربی ممالک کا دہرا معیار شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک ہم منصب خاقان فیدان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی صورت حال اور باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے والی پراکسی بن چکی ہے اور کابل کو دہشت گردوں کی سرپرستی بند کرنا ہوگی۔
نیپال کے بعد بنگلہ دیش نے بھی بھارت کو آئینہ دکھا دیا؛ ڈھاکہ نے بھارتی دورے کو شیخ حسینہ کی حوالگی سے مشروط کرتے ہوئے نئی دہلی کی سفارتی ناکامی واضح کر دی۔