لکی مروت میں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اور مسلسل دھرنوں نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ گنڈی چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج کو عوامی سطح پر مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مقامی آبادی نے اس احتجاج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے صوبائی قیادت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق پندرہ سال بعد وزیر اعلیٰ کی آمد پر علاقے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی امید تھی۔ صوبائی حکومت نے پسماندہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے احتجاج کی بھینٹ چڑھا دیا۔ کسی فلاحی اور ترقیاقی کام کا اعلان نہ ہونے پر عوام نے پی ٹی آئی کے اس اقدام سے مکمل لاتعلقی ظاہر کر دی۔
طویل دھرنوں، بند شاہراہوں اور موبائل سگنلز کی بندش سے مقامی کاروبار اور معیشت بیٹھ چکی ہے۔ ریڑھی بان اور دیہاڑی دار طبقہ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ مارکیٹیں بند ہونے سے تاجر برادری کو روزانہ بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
راستوں کی رکاوٹوں کے باعث ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی انتہائی کٹھن ہو گئی ہے۔ ایمبولینسز پھنسنے سے مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ چکی ہیں اور طلبہ کی پڑھائی رک چکی ہے۔ کرک اور کوہاٹ سے متصل ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مسافروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ضلع سے ایم این اے، ایم پی اے اور صوبائی حکومت سب پی ٹی آئی کے پاس ہیں۔ ووٹ لینے کے بعد علاقے کو سہولیات کے بجائے مسائل اور بدامنی کا تحفہ دیا گیا۔ شہریوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف دھرنوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
دیکھیے: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے