وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کا ایک سہولت کار نظام کام کر رہا ہے، جبکہ امن و امان کے سنگین مسئلے پر حکام مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ایک ناکام لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ دوسری جانب دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے بے گناہ شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں دو کسٹم اہلکاروں سمیت پانچ معصوم افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے باوجود صوبائی کابینہ یا وزیراعلیٰ نے لواحقین سے تعزیت کی اور نہ ہی اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرنے کی زحمت کی۔
ریاستی اداروں کے ساتھ رویہ
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں شہری اس نااہلی اور بے حسی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے گورنر کی زیر صدارت سیکیورٹی اجلاس میں شرکت کرنے پر آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کی بازپرس کے لیے اجلاس طلب کیا۔ یہ رویہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق اہم فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے اور ایک پورے صوبے کو یرغمال بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
گورنر راج
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ہر دو تین ماہ بعد دارالحکومت پر لشکر کشی کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست کو اسلام آباد کے دفاع کا مکمل آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج حکومت کا آخری آپشن ہو گا۔ تاہم اگر امن وامان کے لیے کوئی دوسرا راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت اور ریاست کے تحفظ کی خاطر یہ قدم بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ حالات اور دستیاب راستوں کو مدنظر رکھ کر ہی تمام فیصلے کیے جائیں گے۔
سیاسی صورت حال
سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے بات چیت کی میز پر آئے۔ شرائط کے ساتھ شروع کیے گئے مذاکرات ابتدائی لمحات میں ہی ناکام ہو جاتے ہیں۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدید ہو چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی اراکین ایک قابل قبول سیاسی حل کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ ایک جمہوری سیاسی جماعت کا کردار ادا کرے اور انتشار کی سیاست ترک کر دے۔