سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد خطے میں عسکری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن کے چار صوبوں میں حوثی ملیشیا کے 82 فوجی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب، یمن کی سرکاری فوج نے جاری زمینی آپریشن کے دوران 1 ہزار 860 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا غیر مسلح کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حوثی گروپ نے بھی سعودی عرب کے فوجی ڈرون کو مار گرانے اور سرحد پار جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی اتحاد کی بمباری
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق صعدہ، حدیدہ، الجوف اور مارب میں حوثیوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے والی 11 زیرِ زمین پناہ گاہیں تباہ کی گئیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ دیگر نشانہ بننے والے اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، مواصلاتی مراکز، اسلحہ ڈپو اور حوثی جنگجوؤں کے مراکز شامل ہیں۔ ان کے مطابق سعودی تنصیبات پر حملوں کو کسی صورت بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔
سعودی ایئرپورٹس پر حملے
یہ کارروائیاں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کے فوری بعد کی گئیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
آپریشن فجرِ یمن
یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ فورسز نے ملک گیر آپریشن ’فجرِ یمن‘ کے تحت 2 ہزار 103 کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 1860 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مسلح کیے جا چکے ہیں۔
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے صنعا سمیت تمام علاقوں کی بازیابی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری دستے باب المندب اور بندرگاہی شہر المخا کے قریب حوثی پوزیشنز پر پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز میں سعودی فورسز کا ترک ساختہ آقنچی ڈرون مار گرایا ہے۔
ترجمان کے مطابق انہوں نے لحج اور آبنائے باب المندب کے قریب سعودی اتحادی فورسز پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اس دوران مبینہ طور پر اتحادی دستوں کے اسلحہ گودام بھی تباہ کیے گئے ہیں۔