لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

آج کے دن ہمیں صرف اقبال کو یاد نہیں کرنا، بلکہ ان کے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کا بازو بن کر رہے گا اور فقر کی اسی سان پر چڑھ کر باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگا۔

April 21, 2026

آج اقبال کا یومِ وفات ہے۔ اقبال ایک شخص نہیں ایک عہد تھے۔ بلا کے شاعر، جن کو شاعری الہام ہوتی تھی۔ دور اندیش اتنے کہ دور اندیشی کو خود رشک آ جائے، اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ ایک ہنستا بستا خوشحال پاکستان جو امتِ مسلمہ کا ترجمان ملک ہو اور ایشیا کی خود مختار طاقت۔ اقبال کو ایسا درویش پاکستان درکار تھا جس کے باسی خودی کے ترجمان درویش ہوں جو وقت اور حالات کا دھارا پلٹ دیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے اقبال کے خوابوں کی برابر ترجمانی کی ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریے کی عملی صورت ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر کے مسلمان اپنی شناخت کی تلاش میں بھٹک رہے تھے، تب حکیم الامت نے انہیں ‘خودی’ کا درس دے کر غلامی کی زنجیریں توڑنے کا ہنر سکھایا۔ اقبال کا تصورِ پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا، بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ کا قیام تھا جہاں اسلام کے آفاقی اصولوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ وقت آنے پر پاکستان نے کعبہ اللہ کی حفاظت کی اور ثابت کیا کہ یہ ملک حرمین شریفین کا سچا پاسبان ہے۔ دنیا کے جس مسلمان ملک نے پاکستان کو پکارا، پاکستان نے لبیک کہا۔ فلسطین سے لے کر بوسنیا تک اور کشمیر سے لے کر افغانستان تک، پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ رہی ہے۔

اگرچہ کچھ اپنوں اور پرایوں نے دیے زخم ہمیں لگے مگر ہم جھکے نہیں، بکے نہیں بلکہ کھڑے رہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی ایٹمی طاقت اسے عالمی سیاست کا ایک ناگزیر کھلاڑی بناتی ہے۔ ہم تیسری عالمی جنگ رکوانے کے لیے ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں اور بھارت کے خلاف معرکہ حق میں اپنی آہنی طاقت کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ حرمین کی حفاظت کے لیے ہمارا دستہ سعودی عرب میں بھی موجود ہے، جو اس عزم کی علامت ہے کہ امتِ مسلمہ کے دفاع کے لیے پاکستان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

جہاں ایک جانب پاکستان آج تیسری عالمی جنگ رکوانے کے دہانے پر ہے، وہیں ہم نے گزشتہ سال اپنی عسکری طاقت بھی دکھائی ہے۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ وقت آنے پر یہ قوم دشمن کے خلاف بنیانِ مرصوص ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی بات ہو یا خطے میں توازن برقرار رکھنا ہو، اسلام آباد کا کردار کلیدی رہا ہے۔ معرکہ حق جیسے واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ہم پرامن تو ہیں لیکن کمزور نہیں، اور ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری سمجھنا دشمن کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ
دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نِگہ توڑ دے آئنۂ مہروماہ

یہ اشعار محض شاعری نہیں بلکہ ایک ریاستی فلسفہ ہیں۔ آج جب دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، اقبال کا پیغامِ خودی اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہمیں ایک ایسی خود مختار ریاست بن کر ابھرنا ہے جو اپنے فیصلے خود کرے اور جس کی معیشت و سیاست غیروں کی مرہونِ منت نہ ہو۔ پاکستان کی بقا اور ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اقبال کے اس فلسفے کو حرزِ جاں بنا لیں.

آج کے دن ہمیں صرف اقبال کو یاد نہیں کرنا، بلکہ ان کے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کا بازو بن کر رہے گا اور فقر کی اسی سان پر چڑھ کر باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگا۔

دیکھیے: علامہ اقبال کا 88واں یومِ وفات، ملک بھر میں آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *