ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی ناکہ بندی کے ردعمل میں بند کیا گیا ہے اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا کی جانب سے عائد کردہ اقدامات ختم نہیں کیے جاتے۔
ترجمان خاتم الانبیا سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور اس علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملکی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی دباؤ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے آرمی ڈے کے موقع پر اپنے تازہ تحریری پیغام میں آبنائے ہرمز اور ایران-امریکہ مذاکرات جیسے اہم معاملات پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
ایرانی بحریہ دشمنوں کو نئی شکست دینے کے لیے تیار
اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ’دشمنوں‘ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحریہ انہیں “نئی شکستوں کا مزا چکھانے” کے لیے تیار ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران میں آرمی ڈے کی اہمیت
ایران میں ایرانی انقلاب 1979 کے بعد سے اس دن کو آرمی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں ایرانی فوج کو “اسلام کی فوج” قرار دیتے ہوئے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو سراہا۔
سپریم لیڈر عوامی منظر سے غائب
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے اوائل میں سپریم لیڈر بننے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور اب تک ان کے تمام پیغامات تحریری شکل میں ہی جاری کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار
دوسری جانب آبنائے ہرمز پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے بعد 23 جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے، جبکہ ایران نے بھی اس کے ردعمل میں آبنائے پر کنٹرول سخت کر دیا ہے۔
ایران کا مؤقف: امریکی ناکہ بندی ’بحری قذاقی‘
ایرانی حکام نے امریکی اقدامات کو ’بحری قذاقی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی جاری رہے گی۔
مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران تاحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے پر رضامند نہیں ہوا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خلیجی ممالک کی جنگ بندی کی حمایت
قطری دفاعی ماہر نواف الثانی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس آئے اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی برقرار رکھی جائے۔