پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام پر “جارحانہ چھاپوں، من مانی کی گرفتاریوں اور جبری واپسی” کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم پاکستانی حکام اور قانونی ماہرین ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ یہ افراد مہاجر یا پناہ گزین نہیں رہے، بلکہ وہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں جن کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں۔ پاکستان نے 1951 کے اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے، اس لیے ’جبری واپسی‘ جیسی کوئی قانونی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔
“خودمختار ریاست کا قانونی حق”
ماہرین قانون کے مطابق، دنیا کی ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کو واپس بھیجے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک روزانہ کی بنیاد پر بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کو ڈپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی داخلی سلامتی اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے یہی قانونی عمل کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ 2023 میں پروف آف رجسٹریشن کارڈز کی تجدید بند کی گئی تھی اور افغان شہریوں کو واپس جانے کے لیے کافی مہلت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود جو لوگ رک گئے، وہ اب غیر قانونی حیثیت میں ہیں۔
“سکیورٹی خدشات بنیادی وجہ”
اکتوبر 2025 سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی ریاست کسی مخالف ملک کے شہریوں کو بغیر دستاویزات کے اپنے ہاں برداشت نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے سیکیورٹی آپریشنز کو تیز کیا تاکہ مشتبہ عناصر کو شناخت کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق، صرف 2026 میں اب تک 146,000 سے زائد افغان شہری واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ یہ عمل ایک اچانک فیصلہ نہیں، بلکہ مسلسل پالیسی کا حصہ ہے۔
“انسانی بنیادوں پر استثنیٰ ممکن”
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ طبی ایمرجنسی، بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے معاملات کو انفرادی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، خوف کی وجہ سے کچھ خاندان خود ہی علاج معالجے سے گریز کر رہے ہیں، جس کا الزام پاکستان پر ڈالنا درست نہیں۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔ جو بھی درست دستاویزات پیش کرے گا، اسے طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
“پاکستان سے منافرت پھیلانے کی کوشش ناکام”
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک افغان مہمانوں کی میزبانی کی۔ 1979 سے لے کر اب تک پاکستان نے لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ دی، سکول، اسپتال اور روزگار مہیا کیا۔
اب جب کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کر رہا ہے، بعض بین الاقوامی تنظیمیں بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ میکسیکو کی سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج سکتا ہے، اگر یورپی ممالک افریقی اور مشرق وسطیٰ کے تارکین وطن کو ڈپورٹ کر سکتے ہیں، تو پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ پاکستان پر دوہرے معیار کا اطلاق قابل قبول نہیں۔
پاکستان کا واضح مؤقف
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہری تارکین وطن ہیں، پناہ گزین نہیں۔ پاکستان پناہ گزین کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے ’جبری واپسی‘ کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ہر خودمختار ریاست کو اپنے ملک سے غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کا قانونی حق ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے کام لیا ہے، لیکہ قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کسی بھی ریاست کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ حقائق کو تحریف کیے بغیر پیش کریں اور پاکستان کی قانونی حیثیت کو تسلیم کریں۔