وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

June 19, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

June 19, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

June 19, 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

June 19, 2026

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔

June 19, 2026

امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

June 19, 2026

ایران امریکہ متوقع معاہدہ: نئی جنگ کی پیش بندی یا مستقل امن کی ضمانت

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اپنی جانب سے کافی حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اگر فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا تو خطے اور آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے، جس کے نتائج سب کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔

May 5, 2026

ایران کی جانب سے پیش کیا گیا نیا امن منصوبہ جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں چند نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ نمبر ایک منصوبے کے تیسرے مرحلے میں ایران نے عرب ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمے کے آغاز اور پورے مشرق وسطیٰ پر مشتمل ایک سیکورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔نمبر دو امریکہ اور اسرائیل، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہ کرنے جبکہ  ایران کی جانب سے بھی امریکہ و اسرائیل پر حملے نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں  “نہ تسوی مینوں چھیڑو نہ میں توانوں چھیڑناواں ۔راقم کی رائے کے مطابق ایران کو یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ)   خطے میں اگر کسی ایک پرحملہ  ہوا تو سب پر حملہ تصور ہو گا۔ تب سب مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ ماضی اور موجودہ خون ریز جنگی حالات کا تقاضا ہے کہ سہ فریق نہیں بلکہ ہمہ جہتی معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ نائن الیون کی جنگ کے دوران 2004 میں جغرافیائی و سیاسی تصور کی بنیاد پر  امریکہ کی جانب سے متعارف کیا گیا بیانیہ گریٹر مشرق وسطیٰ میں پاکستان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ پھر اس وقت سے لیکر اب تک پاکستان، ایران، افغانستان اور عرب ممالک حالت جنگ میں ہی ہیں۔ نمبر تین ایران نے امن منصوبے میں اسرائیل کو شامل کرنے کی بات کی ہے۔ عربوں کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمہ اور مشترکہ سیکورٹی نظام کی تشکیل درحقیقت ایران کی جانب سے پہلی دفعہ خطے میں  عرب ممالک کی بھرپور موجودیگی کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔  ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کا بار بار اور سختی سے تقاضا دگرگوں معاشی صورت حال کو سنبھالا دینے اور  خطے میں اپنے اثرو رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کو مذاکرات میں شامل کرنے کی بات کر کے بالواسطہ یا بلاواسطہ لچک کی انتہا کیطرف اشارہ ہے۔ مبصرین کے مطابق مکمل جنگ بندی ہونے کی صورت میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بہرحال یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

صہیونی ساہور کار چالاک و عیار ٹرمپ ایران کے ان کمزور پہلوئوں سے مکمل آگاہی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہارا ہواٹرمپ ” نیول ٹاک ” پر یہ جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ اور کسی بھی سمجھوتے تک پہنچنے سے پہلے پہلے ایران سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ راقم  نے ایک ماہ اور چند روز قبل بھی اپنے کالموں میں کہا تھا کہ میزائلوں، گولہ بارود و ڈرونز سے شروع ہونے والی جنگ اب اعصابی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ بنے گا سکندر وہی جو اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھے گا۔ (ایران کی چلائی ہو چال آبنائے ہرمز کی بندش (اب اس پر خود) ناکہ بندی کی شکل میں ) الٹ دی گئی ہے۔ جو کہ ایرانی اسٹیک ہولڈروں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ بقول ٹرمپ کے  آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بہت سے ممالک اس وقت امریکہ کے آپریشن ” پروجیکٹ فریڈم  ” کی حمایت میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ایران تنہا نظر آرہا ہے ۔

حتیٰ کہ چین  و پاکستان نے بھی چندروز قبل آبنائے ہرمز کو دونوں جانب سے کھولنے پر زور دیا ہے۔ یہ سارا  نیول اسٹریٹجک منظرنامہ 11 اپریل کو شائع ہونے والے کالم (آبنائے ہرمز بنی نوع انسان کی لائف لائن) میں احاطہ تحریر میں لا چکا ہوں۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے آپریشن پروجیکٹ فریڈم اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اپنے مؤقف میں مزید نرمی لاتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو مئوخر رکھنے کی شرط واپس لے لی ہے۔ اور اب جوہری پروگرام پربھی فوری بات چیت کے لیے تیار ہے۔ آبنائے ہرمزکے حوالے سے پہلی والی تجویز سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتدریج آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو بھی کھولنے کے لیے تیار ہے۔ بقول عرب میڈیا کے اس نے خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ بھی ترک کر دیا ہے۔ امریکی افواج کے انخلاء سے دستبرداری کی خبر فی الحال عرب میڈیا نے ہی دی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح اس کی نیول سرحدوں کے ارد گرد ” فوجی بلڈ اپ” ختم کر دیا جائے۔  ناکہ بندی جسے ایران بحری قزاقی سے تعبیر کرتا ہے۔ اب دن بدن ایران کے لیے  ناقابل برداشت بوجھ بنتی جارہی ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جہاں تک ہو سکتا تھا اس نے لچک دکھائی۔ اس کے باوجود صہیونی کٹھ پتلی ٹرمپ نہیں مانتا ۔ تو خطہ و آبنائے ہرمز انسانی خون سے سرخ ہو جائے گی۔ تب کسی کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ وقت آگیا ہے کہ ٹرمپ کو بے جا ضد چھوڑ کر مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کر لینا چاہیے۔ شاید کہ بگڑا ہوا بچہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد ہو جائے۔ فی الحال اسے بتانا نہیں ۔

دیکھیے: پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں ریسکیو آپریشن، بھارتی عملہ محفوظ بچا لیا گیا

متعلقہ مضامین

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

June 19, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

June 19, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

June 19, 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

June 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *